سنن نسائي
كتاب المواقيت— کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
بَابُ : الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ باب: سخت گرمی میں ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 502
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قال : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، ح وَأَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، يَرْفَعُهُ ، قال : " أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فَإِنَّ الَّذِي تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھو ، کیونکہ جو گرمی تم محسوس کر رہے ہو یہ جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´سخت گرمی میں ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھنے کا بیان۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھو، کیونکہ جو گرمی تم محسوس کر رہے ہو یہ جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 502]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھو، کیونکہ جو گرمی تم محسوس کر رہے ہو یہ جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 502]
502۔ اردو حاشیہ: وضاحت کے لیے دیکھیے سنن نسائی حدیث: 500‘501۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 502 سے ماخوذ ہے۔