حدیث نمبر: 4986
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ : أَرَأَيْتَ تَعْلِيقَ الْيَدِ فِي عُنُقِ السَّارِقِ مِنَ السُّنَّةِ هُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ , " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَ يَدَهُ , وَعَلَّقَهُ فِي عُنُقِهِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ضَعِيفٌ وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ` میں نے فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا ، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹا اور اس کی گردن میں لٹکا دیا ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہیں ، ان کی حدیث لائق حجت نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4986
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4411) وانظر الحدي السابق (4985) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 359
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1447

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1447 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´چور کا ہاتھ (کاٹنے کے بعد) گردن میں لٹکانے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے پوچھا: کیا چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر آپ نے حکم دیا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1447]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’حجاج بن ارطاۃ‘‘ ضعیف، اور’’عبدالرحمن بن محیریز‘‘ مجہول ہیں) دیکھئے: الإرواء: 2432)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1447 سے ماخوذ ہے۔