سنن نسائي
كتاب قطع السارق— کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : مَا لاَ قَطْعَ فِيهِ باب: جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : قَال جَابِرٌ : " لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ : عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، وَابْنُ وَهْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَمَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، وَسَلَمَةُ بْنُ سَعِيدٍ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ ، قَالَ ابْنُ أَبِي صَفْوَانَ : وَكَانَ خَيْرَ أَهْلِ زَمَانِهِ ، فَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ : حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، وَلَا أَحْسَبُهُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` کسی خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : اس حدیث کو ابن جریج سے : عیسیٰ بن یونس ، فضل بن موسیٰ ، ابن وہب ، محمد بن ربیعہ ، مخلد بن یزید اور سلمہ بن سعید ، یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں ، نے روایت کیا ہے ۔ ابن ابی صفوان کہتے ہیں - اور یہ سب اپنے زمانے کے سب سے بہتر آدمی تھے : ان میں سے کسی نے «حدثنی ابوالزبیر» یعنی ” مجھ سے ابوالزبیر نے بیان کیا “ نہیں کہا ۔ اور میرا خیال ہے ان میں سے کسی نے ابوالزبیر سے اسے سنا بھی نہیں ہے ، واللہ اعلم ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس حدیث کو ابن جریج سے: عیسیٰ بن یونس، فضل بن موسیٰ، ابن وہب، محمد بن ربیعہ، مخلد بن یزید اور سلمہ بن سعید، یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں، نے روایت کیا ہے۔ ابن ابی صفوان کہتے ہیں - اور یہ سب اپنے زمانے کے سب سے بہتر آدمی تھے: ان میں سے کسی نے «حدثنی ابوالزبیر» یعنی " مجھ سے ابوالزبیر نے بیان کیا " نہیں کہا۔ اور میرا خیال ہے ان میں [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4977]
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " خیانت کرنے والے، ڈاکو اور اچکے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1448]
وضاحت:
1؎:
کسی محفوظ جگہ سے جہاں مال اچھی طرح سے چھپا کر رکھا گیا مال چُرانا سرقہ ہے اور خیانت، اچکنا اور ڈاکہ زنی یہ سب کے سب سرقہ کی تعریف سے خارج ہیں، لہٰذا ان کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے، خائن اسے کہتے ہیں جو خفیہ طریقہ پر مال لیتا رہے اور مالک کے ساتھ خیر خواہی اور ہمدردی کا اظہا رکرے۔
حدیث میں مذکورہ جرائم پر حاکم جو مناسب سزا تجویز کرے گا وہ نافذ کی جائے گی۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اشعث بن سوار ضعیف ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4979]