حدیث نمبر: 4963
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَوْصِيَّ ، عَنْ الْحَسَنِ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” نہ پھلوں کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ کھجور کے گابے کے چرانے میں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4963
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3576) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔`
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: نہ پھلوں کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ کھجور کے گابے کے چرانے میں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4963]
اردو حاشہ: (1) پھل سے مراد وہ پھل ہے جو درخت پر لگا ہو جیسا کہ پہلے وضاحت گزر چکی ہے۔
(2) اس قسم کے پھل میں ہاتھ نہ کٹنے کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کوئی اور سزا بھی نہیں دی جائے گی، بلکہ دگنی قیمت اور جسمانی سزا عائد کی جائے گی۔
(3) کثر سے مراد کھجور کی وہ نرم گری اور مغز ہے جو اس کے تنے کے اوپر کنارے میں ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4963 سے ماخوذ ہے۔