حدیث نمبر: 4957
حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ . ح وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْحَاق هُوَ الْأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَيْمَنَ مَوْلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ ، وَقَالَ خَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ : مَوْلَى الزُّبَيْرِ ، عَنْ تُبَيْعٍ ، عَنْ كَعْبٍ ، قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ صَلَّى ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، فَأَتَمَّ ، وَقَالَ سَوَّارٌ : يُتِمُّ رُكُوعَهُنَّ وَسُجُودَهُنَّ وَيَعْلَمُ مَا يَقْتَرِئُ ، وَقَالَ سَوَّارٌ : يَقْرَأُ فِيهِنَّ كُنَّ لَهُ بِمَنْزِلَةِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´کعب الاحبار کہتے ہیں کہ` جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا پھر نماز ادا کی ، ( عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے ، پھر نماز عشاء کی جماعت میں شریک ہوا ) ، پھر اس کے بعد چار رکعتیں رکوع اور سجدہ کے اتمام کے ساتھ اور پڑھیں ، اور جو کچھ قرأت کیا اسے سمجھا بھی تو یہ سب اس کے لیے شب قدر کے مثل باعث اجر ہوں گی ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4957
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: مقطوع موقوف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1749، 19241) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ایمن‘‘ مجہول ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔`
کعب الاحبار کہتے ہیں کہ جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا پھر نماز ادا کی، (عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے، پھر نماز عشاء کی جماعت میں شریک ہوا)، پھر اس کے بعد چار رکعتیں رکوع اور سجدہ کے اتمام کے ساتھ اور پڑھیں، اور جو کچھ قرأت کیا اسے سمجھا بھی تو یہ سب اس کے لیے شب قدر کے مثل باعث اجر ہوں گی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4957]
اردو حاشہ: امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصد بالکل واضح ہے کہ حضرت عطاء کے استاد حضرت ایمن تابعی ہیں جو کبار تابعین سے بیان فرماتے ہیں، جیسے وہ اس روایت میں حضرت تبیع تابعی سے بیان کر رہے ہیں۔ اگر وہ صحابی ہوتے تو کسی صحابی سے یا رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے۔ باقی رہے صحابی رسول حضرت ایمن بن ام ایمن تو ان سے حضرت عطاء کی ملاقات ہی نہیں۔ آئندہ حدیث بھی اسی بات کی تائید کے لیے ذکر فرما رہے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4957 سے ماخوذ ہے۔