حدیث نمبر: 4956
أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ الْعَرْزَمِيِّ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : " أَدْنَى مَا يُقْطَعُ فِيهِ ثَمَنُ الْمِجَنِّ " ، قَالَ : " وَثَمَنُ الْمِجَنِّ يَوْمَئِذٍ عَشْرَةُ دَرَاهِمَ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَأَيْمَنُ الَّذِي تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لِحَدِيثِهِ مَا أَحْسَبُ أَنَّ لَهُ صُحْبَةً ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ حَدِيثٌ آخَرُ يَدُلُّ عَلَى مَا قُلْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عطاء کہتے ہیں :` کم سے کم جس میں ہاتھ کاٹا جائے گا ڈھال کی قیمت ہے ، اور ڈھال کی قیمت اس وقت دس درہم تھی ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : ایمن جن کی حدیث ہم نے اوپر ذکر کی ہے ، میں نہیں سمجھتا کہ وہ صحابی تھے ، ان سے ایک حدیث اور مروی ہے جو ہمارے خیال کی تائید کرتی ہے ، ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4956
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف مقطوع مخالف للمرفوع , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف (منکر) (یہ اثر مرفوع حدیث کے مخالف ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔`
عطاء کہتے ہیں: کم سے کم جس میں ہاتھ کاٹا جائے گا ڈھال کی قیمت ہے، اور ڈھال کی قیمت اس وقت دس درہم تھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ایمن جن کی حدیث ہم نے اوپر ذکر کی ہے، میں نہیں سمجھتا کہ وہ صحابی تھے، ان سے ایک حدیث اور مروی ہے جو ہمارے خیال کی تائید کرتی ہے، (جو آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4956]
اردو حاشہ: حضرت عطاء کا اثر مقطوعا (عطاء کے قول کےطور پر) صحیح ہے لیکن صحیح حدیث کے مخالف ہونےکی وجہ سے قابل التفات نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4956 سے ماخوذ ہے۔