سنن نسائي
كتاب قطع السارق— کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ باب: اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4954
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ : " كَانَ ثَمَنُ الْمِجَنِّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوَّمُ عَشْرَةَ دَرَاهِمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی جیسی روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ڈھال کی قیمت دس درہم لگائی جاتی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی جیسی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ڈھال کی قیمت دس درہم لگائی جاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4954]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی جیسی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ڈھال کی قیمت دس درہم لگائی جاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4954]
اردو حاشہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی مذکورہ دونوں روایات احادیث صحیحہ کے مخالف ہونے کی وجہ سے شاذ ہیں کیونکہ صحیح ترین روایات میں ڈھال کی قیمت تین درہم یا ربع دینار ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4954 سے ماخوذ ہے۔