سنن نسائي
كتاب قطع السارق— کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ باب: اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4948
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَزْهَرِ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَيْمَنَ ، قَالَ : " لَمْ تُقْطَعِ الْيَدُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ ، وَقِيمَةُ الْمِجَنِّ يَوْمَئِذٍ دِينَارٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایمن کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہاتھ نہیں کاٹا گیا مگر ڈھال کی قیمت پر اور ڈھال کی قیمت اس وقت ایک دینار تھی ۔