سنن نسائي
كتاب قطع السارق— کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ باب: اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4946
وَأَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَيْمَنَ ، قَالَ : " لَمْ يَقْطَعِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّارِقَ إِلَّا فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ ، وَثَمَنُ الْمِجَنِّ يَوْمَئِذٍ دِينَارٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایمن کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا مگر ایسی چیز میں جو ڈھال کی قیمت کے برابر ہو اور اس وقت ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔`
ایمن کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا مگر ایسی چیز میں جو ڈھال کی قیمت کے برابر ہو اور اس وقت ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4946]
ایمن کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا مگر ایسی چیز میں جو ڈھال کی قیمت کے برابر ہو اور اس وقت ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4946]
اردو حاشہ: یہ روایت مرسل ہونے کے ساتھ صحیح روایات کے معارض ہونے کی وجہ سے منکر بھی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4946 سے ماخوذ ہے۔