حدیث نمبر: 4944
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمْ تُقْطَعْ يَدُ سَارِقٍ فِي أَدْنَى مِنْ حَجَفَةٍ أَوْ تُرْسٍ وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذُو ثَمَنٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` حجفہ یا ترس یعنی ڈھال سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ ان میں سے ہر ایک چیز قیمت والی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4944
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الحدود 14 (6793)، (تحفة الأشراف: 16970) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حجفہ یا ترس یعنی ڈھال سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ان میں سے ہر ایک چیز قیمت والی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4944]
اردو حاشہ: ظاہر ہے اس دور کے لحاظ سے تین درہم کافی قیمت تھی۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ معمولی چیز کی چوری میں ہاتھ کاٹا جاسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4944 سے ماخوذ ہے۔