سنن نسائي
كتاب قطع السارق— کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الْقَدْرِ الَّذِي إِذَا سَرَقَهُ السَّارِقُ قُطِعَتْ يَدُهُ باب: مال کی وہ مقدار جس کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا؟
حدیث نمبر: 4917
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : " سَرَقَ رَجُلٌ مِجَنًّا عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ ، فَقُوِّمَ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ ، فَقُطِعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک شخص نے ایک ڈھال چرائی ، اس کی قیمت پانچ درہم لگائی گئی ، تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´مال کی وہ مقدار جس کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا؟`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک شخص نے ایک ڈھال چرائی، اس کی قیمت پانچ درہم لگائی گئی، تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4917]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک شخص نے ایک ڈھال چرائی، اس کی قیمت پانچ درہم لگائی گئی، تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4917]
اردو حاشہ: پانچ درہم پر ہاتھ کاٹنے سے تین درہم پر ہاتھ کاٹنے کی نفی نہیں ہوتی۔ (دیکھیئے‘روایت:4911)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4917 سے ماخوذ ہے۔