حدیث نمبر: 4909
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " إِقَامَةُ حَدٍّ بِأَرْضٍ خَيْرٌ لِأَهْلِهَا مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` زمین میں ایک حد کا نفاذ زمین والوں کے لیے چالیس دن کی بارش سے زیادہ بہتر ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4909
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن موقوف في حكم المرفوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (2538) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 358
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (حسن) (یہ موقوف حدیث حکم کے اعتبار سے مرفوع حدیث ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´حد نافذ کرنے کی ترغیب کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ زمین میں ایک حد کا نفاذ زمین والوں کے لیے چالیس دن کی بارش سے زیادہ بہتر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4909]
اردو حاشہ: (1) یہ روایت اگرچہ موقوف ہے لیکن حکما مرفوع ہی ہے کیونکہ یہ بات کوئی صحابی اپنی رائے سے نہیں کہہ سکتا۔ واللہ أعلم
(2) محقق کتاب نے مذکورہ دونوں روایتوں کو سندا ضعیف قرار دیا ہے لیکن دیگر محققین نے شواہد کی بنا پر ان کو حسن کہا ہے۔ دیکھیے: (الصحیحة، حدیث:231، وذخیرة العقبیٰ، شرح سنن النسائي: 30/37۔32)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4909 سے ماخوذ ہے۔