سنن نسائي
كتاب قطع السارق— کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : مَا يَكُونُ حِرْزًا وَمَا لاَ يَكُونُ باب: کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟
حدیث نمبر: 4894
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْحُلِيَّ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَعَارَتْ مِنْ ذَلِكَ حُلِيًّا ، فَجَمَعَتْهُ ثُمَّ أَمْسَكَتْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِتَتُبْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ ، وَتُؤَدِّي مَا عِنْدَهَا " ، مِرَارًا فَلَمْ تَفْعَلْ ، فَأَمَرَ بِهَا فَقُطِعَتْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع کہتے ہیں کہ` ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زیورات مانگ لیتی تھی ، چنانچہ اس نے زیور مانگا اور اسے اکٹھا کر کے رکھ لیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس عورت کو توبہ کرنی چاہیئے اور جو کچھ اس کے پاس ہے ، اسے ادا کرنا چاہیئے ، کئی بار ( کہا ) لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4893 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت لوگوں کے زیورات مانگ لیتی پھر اسے رکھ لیتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس عورت کو اللہ اور اس کے رسول سے توبہ کرنی چاہیئے، اور جو کچھ لیتی ہے اسے لوگوں کو لوٹا دینا چاہیئے “، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بلال کھڑے ہو اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کاٹ دو۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4893]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت لوگوں کے زیورات مانگ لیتی پھر اسے رکھ لیتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس عورت کو اللہ اور اس کے رسول سے توبہ کرنی چاہیئے، اور جو کچھ لیتی ہے اسے لوگوں کو لوٹا دینا چاہیئے “، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بلال کھڑے ہو اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کاٹ دو۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4893]
اردو حاشہ: ”واپس کردے“ اس جرم میں گنجائش ہے کہ اگر وہ مجرم بعد میں چیز واپس کردے تو اسے معافی مل جائے گی البتہ چوری میں یہ گنجائش نہیں بلکہ جرم ثابت ہونے کے بعد کسی بھی صورت میں معافی نہیں ہو سکتی اور ہاتھ کاٹا جائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4893 سے ماخوذ ہے۔