حدیث نمبر: 4890
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ : عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَعَافَوْا الْحُدُودَ فِيمَا بَيْنَكُمْ ، فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حدود کو آپس ہی میں معاف کر دو ، جب حد کی کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہو گئی “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اسے معاف نہیں کیا جا سکتا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4890
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (4889) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 358
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4376

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟`
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حدود کو آپس ہی میں معاف کر دو، جب حد کی کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہو گئی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4890]
اردو حاشہ: مذکورہ بالا دونوں روایات کو محقق کتاب نے ابن جریج کی تدلیس کی وجہ سے سندا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے کہا کہ یہ روایات شواہد کی بنا پر صحیح ہیں۔ سلسلہ صحیحہ میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے ابن مسعود ؓ کی روایت ذکر کی ہے جو اسی مفہوم کی ہے۔ دیکھیے: (سلسلة الأحادیث الصحیحة، حدیث: 1638) اس لیے راجح بات یہی ہے کہ یہ روایات قابل استدلال ہیں۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4890 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4376 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´حاکم تک پہنچنے سے پہلے حد کو نظر انداز کرنا جائز ہے۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حدود کو آپس میں نظر انداز کرو، جب حد میں سے کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہو گئی (اسے معاف نہیں کیا جا سکتا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4376]
فوائد ومسائل:
 1۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے، تاہم یہ حدیث معنوی شواہد کی بنا پر حسن درجے تک پہنچ جاتی ہے، جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے تحقیق میں اس بات کا اظہار کیا ہے۔
دیکھیے حدیث ھٰذا کی تخریج وتحقیق۔


قاضی اور حاکم کو قطعا روا نہیں کہ حدود شرعیہ کی تنفیذ میں ٹال مٹول سے کام لے۔


خود مجرم یا اس کو دیکھنے والے گواہوں پرواجب نہیں کہ یہ معاملہ قاضی تک پہنچائیں۔
اگر معاملہ قابل ستر اور قابل معافی ہو تو اس اعتماد پرکہ مرتکب جرم آئندہ محتاط رہے گا، اس سے درگزر کیا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4376 سے ماخوذ ہے۔