سنن نسائي
كتاب قطع السارق— کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : مَا يَكُونُ حِرْزًا وَمَا لاَ يَكُونُ باب: کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خِيَرَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ الْعَلَاءِ الْكُوفِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ صَفْوَانُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ ، وَرِدَاؤُهُ تَحْتَهُ فَسُرِقَ ، فَقَامَ وَقَدْ ذَهَبَ الرَّجُلُ , فَأَدْرَكَهُ فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ ، قَالَ صَفْوَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا بَلَغَ رِدَائِي أَنْ يُقْطَعَ فِيهِ رَجُلٌ ، قَالَ : " هَلَّا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنَا بِهِ ؟ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : أَشْعَثُ ضَعِيفٌ .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` صفوان رضی اللہ عنہ مسجد میں سو رہے تھے ، ان کی چادر ان کے سر کے نیچے تھی ، کسی نے اسے چرایا تو وہ اٹھ گئے ، اتنے میں آدمی جا چکا تھا ، انہوں نے اسے پا لیا اور اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے ۔ آپ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میری چادر اس قیمت کی نہ تھی کہ کسی شخص کا ہاتھ کاٹا جائے ۱؎ ۔ آپ نے فرمایا : ” تو ہمارے پاس لانے سے پہلے ہی ایسا کیوں نہ کر لیا “ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : اشعث ضعیف ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ صفوان رضی اللہ عنہ مسجد میں سو رہے تھے، ان کی چادر ان کے سر کے نیچے تھی، کسی نے اسے چرایا تو وہ اٹھ گئے، اتنے میں آدمی جا چکا تھا، انہوں نے اسے پا لیا اور اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ آپ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میری چادر اس قیمت کی نہ تھی کہ کسی شخص کا ہاتھ کاٹا جائے ۱؎۔ آپ نے فرمایا: ” تو ہمارے پاس لانے سے پہلے [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4886]