سنن نسائي
كتاب قطع السارق— کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الرَّجُلُ يَتَجَاوَزُ لِلسَّارِقِ عَنْ سَرِقَتِهِ باب: حاکم تک معاملہ پہنچنے کے بعد آدمی چور کو معاف کر دے تو اس کے حکم کا بیان، اور صفوان بن امیہ کی اس حدیث میں عطا کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4884
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، " أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ ثَوْبًا , فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , هُوَ لَهُ . قَالَ : " فَهَلَّا قَبْلَ الْآن ؟ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطا بن ابی رباح کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے ایک کپڑا چرایا ، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ( جس کا کپڑا تھا ) وہ شخص بولا : اللہ کے رسول ! وہ اسی کے لیے ہے ۱؎ آپ نے فرمایا : ” ایسا اس سے پہلے ہی کیوں نہ کیا “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی میں نے اسے دے دیا، اب اسے معاف کر دیجئیے۔