حدیث نمبر: 4884
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، " أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ ثَوْبًا , فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , هُوَ لَهُ . قَالَ : " فَهَلَّا قَبْلَ الْآن ؟ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عطا بن ابی رباح کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے ایک کپڑا چرایا ، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ( جس کا کپڑا تھا ) وہ شخص بولا : اللہ کے رسول ! وہ اسی کے لیے ہے ۱؎ آپ نے فرمایا : ” ایسا اس سے پہلے ہی کیوں نہ کیا “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی میں نے اسے دے دیا، اب اسے معاف کر دیجئیے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4884
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4882 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ اس میں عطاء تابعی اور نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے درمیان واسطہ کا ذکر نہیں ہے لیکن پچھلی روایت مرفوع متصل ہے)»