سنن نسائي
كتاب قطع السارق— کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : امْتِحَانِ السَّارِقِ بِالضَّرْبِ وَالْحَبْسِ باب: اعتراف جرم کی خاطر چور کو مارنے یا قید میں ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4879
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَبَسَ نَاسًا فِي تُهْمَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک الزام میں قید میں رکھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´اعتراف جرم کی خاطر چور کو مارنے یا قید میں ڈالنے کا بیان۔`
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک الزام میں قید میں رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4879]
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک الزام میں قید میں رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4879]
اردو حاشہ: تفتیش کے لیے نہ کہ بطور سزا کیونکہ جب تک ملزم کے خلاف الزام ثابت نہ ہو وہ مجرم نہیں بنتا۔ اور تفتیش کے لیے قید کے دوران میں اس پر تشدد نہیں کیا جاسکتا ورنہ تشدد کرنے والے کے خلاف قصاص کی کاروائی کی جائے گی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4879 سے ماخوذ ہے۔