حدیث نمبر: 4868
أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النَّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : " اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 , فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ , وَمَا نَسَخَهَا شَيْءٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ` اہل کوفہ میں اس آیت : «ومن يقتل مؤمنا متعمدا‏» کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ آیت تو آخر میں اتری ہے ، اور یہ کسی ( بھی آیت ) سے منسوخ نہیں ہوئی ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4868
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4005 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´قصاص سے متعلق مجتبیٰ (سنن صغریٰ) کی بعض وہ احادیث جو "سنن کبریٰ" میں نہیں ہیں آیت کریمہ: "جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے" (النساء: ۹۳) کی تفسیر۔`
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ اہل کوفہ میں اس آیت: «ومن يقتل مؤمنا متعمدا‏» کے بارے میں اختلاف ہو گیا، میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ آیت تو آخر میں اتری ہے، اور یہ کسی (بھی آیت) سے منسوخ نہیں ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4868]
اردو حاشہ: (1) "اختلاف ہوگیا" کہ قاتل عمد کی توبہ قبول ہو سکتی ہے یا نہیں۔
(2)"کوچ کیا۔" کیونکہ وہ مکہ مکرمہ میں رہتے تھے۔
(3) "منسوخ نہیں کیا۔" کیونکہ یہ آیت مدنی ہے اور توبہ والی آیت مکی ہے، نیز اس میں مشرکین کا ذکر ہے، مسلمانوں کا نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4868 سے ماخوذ ہے۔