سنن نسائي
كتاب القسامة والقود والديات— کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي كِتَابِ الْقِصَاصِ مِنَ الْمُجْتَبَى مِمَّا لَيْسَ فِي السُّنَنِ تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا } باب: قصاص سے متعلق مجتبیٰ (سنن صغریٰ) کی بعض وہ احادیث جو ”سنن کبریٰ“ میں نہیں ہیں آیت کریمہ: ”جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے“ (النساء: ۹۳) کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4867
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَفْظًا ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ : وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93 , فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " لَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ " ، وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68 , قَالَ : " نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ` عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان دو آیتوں «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ” جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے “ ( النساء : ۹۳ ) «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق» ” جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہیں پکارتے اور اللہ کی حرام کردہ جانوں کو ناحق قتل نہیں کرتے “ ( الفرقان : ۶۷ ) کے متعلق سوال کروں ، میں نے اس کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا : اسے کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا ، اور دوسری آیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ۱؎
وضاحت:
۱؎: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس رائے سے متعلق دیکھیں حاشیہ حدیث رقم (۴۰۰۴)۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4867
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´قصاص سے متعلق مجتبیٰ (سنن صغریٰ) کی بعض وہ احادیث جو ”سنن کبریٰ“ میں نہیں ہیں آیت کریمہ: ”جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے“ (النساء: ۹۳) کی تفسیر۔`
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان دو آیتوں «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ” جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے “ (النساء: ۹۳) «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق» ” جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4867]
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان دو آیتوں «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ” جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے “ (النساء: ۹۳) «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق» ” جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4867]
اردو حاشہ: فائدہ: تفصیل کے لیے دیکھیے احادیث: 3989، 4004، 4013۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4867 سے ماخوذ ہے۔