سنن نسائي
كتاب القسامة والقود والديات— کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ وَاخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لَهُ باب: دیت کے سلسلے میں عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر اور اس کے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَزْمٍ بِكِتَابٍ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا بَيَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ سورة المائدة آية 1 " , فَتَلَا مِنْهَا آيَاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " فِي النَّفْسِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ ، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ فَرِيضَةً ، وَفِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ ، وَفِي الْأَسْنَانِ خَمْسٌ خَمْسٌ ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ " .
´زہری کہتے ہیں کہ` ابوبکر بن حزم میرے پاس ایک تحریر لے آئے جو چمڑے کے ایک ٹکڑے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لکھی ہوئی تھی : یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیان ہے : اے ایمان والو ! عہد و پیمان پورے کرو ، پھر انہوں نے اس میں سے بعض آیات تلاوت کیں ، پھر کہا : جان میں دیت سو اونٹ ہیں ، آنکھ میں پچاس ، ہاتھ میں پچاس ، پیر میں پچاس ، مغز تک پہنچنے والے زخم میں تہائی دیت ، پیٹ کے اندر تک پہنچی چوٹ میں تہائی دیت اور ہڈی سرک جانے میں پندرہ اونٹنیاں ہیں ۔ انگلیوں میں دس دس ، دانتوں میں پانچ پانچ اور اس زخم میں جس میں ہڈی نظر آئے پانچ پانچ اونٹ ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمام دانت برابر ہیں، ہر ایک میں دیت پانچ پانچ اونٹ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4846]
(2) اگر کوئی شخص کسی کے تمام دانت توڑ دے تو اس کی دیت کتنی ہوگی؟ جمہور اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ ہر دانت کی دیت پانچ اونٹ ہوگی اس طرح کہ اگر کوئی شخص بتیس دانت توڑتا ہے تو اسے ایک سو ساٹھ (160) اونٹ دیت دینا ہوگی۔ ڈاڑھیں اور دانت اس میں برابر ہیں۔ ان کی دلیل مذکورہ حدیث ہے۔ جبکہ اہل علم کی ایک جماعت اس بات کی قائل ہے کہ بارہ دانتوں میں پانچ پانچ اونٹ ہوں گے اور باقی بیس ڈاڑھوں میں ایک ایک اونٹ ہوگا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ باقی ڈاڑھوں میں دو دو اونٹ ہوں گے۔ ان کی دلیل حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک فیصلہ ہے کہ انھوں نے ڈاڑھوں میں ایک ایک اونٹ دیت مقرر کی۔ پھر یہ بھی کہ پہلے قول پر عمل کی صورت میں دیت جان کی دیت سے بھی بڑھ جائے گی۔ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہاں تک حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے فیصلے کا تعلق ہے تو ان سے یہ بھی مروی ہے کہ دانت اور داڑھیں برابر ہیں، اس لیے ان کا وہ فتویٰ قابل عمل ہوگا جو مرفوع حدیث کے مطابق ہے اور پھر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ اگر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو مرفوع حدیث کا علم ہوتا تو وہ بھی ڈاڑھوں میں پانچ پانچ اونٹوں کا فیصلہ فرماتے۔ رہی دوسری بات کہ اس طرح دیت جان کی دیت سے بڑھ جائے گی تو یہ نہ قیاس کے خلاف ہے نہ اصول کے بلکہ اصول کے عین مطابق ہے کہ ڈاڑھوں کو دانتوں پر قیاس کیا جائے، پھر اہل علم کے نزدیک ”اسنان“ کا اطلاق، اضراس پر بھی ہوتا ہے۔ پھر کئی صورتیں اور بھی ممکن ہیں جن میں دیت جان کی دیت سے بڑھ جاتی ہے، مثلاً: کسی شخص کی آنکھ نکال دی جائے اور دونوں ہاتھ کاٹ دیے۔ جائیں تو دیت جان کی دیت سے بڑھ جائے گی۔ مزید دیکھیے: (الاستذکار، لابن عبدالبر: 25/ 146-148) ہمارے نزدیک جمہور اہل علم کا موقف ہی راجح ہے۔ واللہ أعلم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کیا تو خطبے میں فرمایا: ” ہر اس زخم میں جس میں ہڈی کھل جائے، دیت پانچ پانچ اونٹ ہیں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4856]
عمرو بن حزم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے ایک کتاب لکھی، اس میں فرائض و سنن اور دیتوں کا ذکر کیا، وہ کتاب عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجی، چنانچہ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی، اس کا مضمون یہ تھا: نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال، نعیم بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال کے نام جو رعین، معافر اور ہمدان کے والی تھے۔ امابعد، اس کتاب میں لکھا تھا: جو بلا وجہ کس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4857]
(2) یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم اس کے اکثر مندرجات دیگر صحیح احادیث میں مذکور ہیں، جن میں سے بعض پہلے گزر چکے ہیں، نیز ان سے متعلقہ احکام ومسائل کی تفصیل بھی بیان ہو چکی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «موضحہ» (ہڈی کھل جانے والے زخم) ۱؎ میں پانچ اونٹ ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1390]
وضاحت: 1؎: موضحہ وہ زخم ہے جس سے ہڈی کھل جائے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہڈی ظاہر کر دینے والے زخم میں دیت پانچ پانچ اونٹ ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2655]
فوائد و مسائل:
علامہ ابن اثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’موضحہ‘‘ وہ زخم ہے جس سے ہڈی کی سفیدی ظاہر ہوجائے۔
جس موضحہ کا جرمانہ پانچ اونٹ ہے وہ ایسا موضحہ ہے جو سر اور چہرے میں ہو۔
کسی اور عضو پر اگر موضحہ زخم لگے تو اس پر مناسب نقد جرمانہ ہے۔‘‘ (النہایة۔
مادہ، وضح)
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جن زخموں سے ہڈی کھل جائے ان کی دیت پانچ اونٹ ہیں۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور احمد میں اتنا اضافہ ہے ’’ تمام انگلیوں کی دیت برابر ہے، ہر انگلی کی دیت دس دس اونٹ ہے۔ “ اس روایت کو ابن خزیمہ اور ابن جارود نے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1015»
«أخرجه أبوداود، الديات، باب ديات الأعضاء، حديث"4566، والترمذي، الديات، حديث:1390، والنسائي، القسامة، حديث:4856، وابن ماجه، الديات، حديث:2655، وأحمد:2 /179، 189، 207، 215.»
تشریح: لڑائی کے دوران میں چوٹ اور زخم کی صورت میں ہڈی سے گوشت الگ ہو جائے اور ہڈی واضح طور پر کھل جائے مگر ٹوٹنے سے بچ جائے تو ایسی صورت میں شوافع‘ احناف اور صحابہ کی ایک بڑی جماعت کا مسلک یہی ہے کہ پانچ اونٹ دیت ادا کرنا لازمی ہوگا جبکہ ہاتھ پاؤں کی انگلیوں میں کوئی ایک انگلی ضائع کر دی جائے تو دیت دس اونٹ ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔