حدیث نمبر: 4850
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ لَمَّا وُجِدَ الْكِتَابُ الَّذِي عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الَّذِي ذَكَرُوا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ لَهُمْ , وَجَدُوا فِيهِ : " وَفِيمَا هُنَالِكَ مِنْ الْأَصَابِعِ عَشْرًا عَشْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ` انہیں جب وہ کتاب ملی جو عمرو بن حزم کی اولاد کے پاس تھی ، جس کے بارے میں ان لوگوں نے بتایا کہ وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی تھی تو انہوں نے اس میں لکھا ہوا پایا کہ ” انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4850
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10726)، وانظرأرقام: 4857-4861 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4848 | سنن نسائي: 4849 | سنن ابي داود: 4556 | سنن ابي داود: 4557 | سنن ابن ماجه: 2654

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4556 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´اعضاء کی دیت کا بیان۔`
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں سب برابر ہیں، ان کی دیت دس دس اونٹ ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4556]
فوائد ومسائل:
انگلیاں ہاتھ کی ہوں یا پاؤں کی انگھوٹھا، چنگلیا وغیرہ سبھی برابر ہیں، ہر ایک میں دس دس اونٹ دیت ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4556 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2654 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´انگلیوں کی دیت کا بیان۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دیت کے معاملہ میں) سب انگلیاں برابر ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2654]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کوئی کسی کی ایک انگلی کاٹ دے تو اس کا جرمانہ دس اونٹ ہیں۔

(2)
ایک سے زیادہ انگلیاں کٹ جانے کی صورت میں ہرانگلی کا جرمانہ دس دس اونٹ ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2654 سے ماخوذ ہے۔