سنن نسائي
كتاب القسامة والقود والديات— کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
بَابُ : صِفَةِ شِبْهِ الْعَمْدِ باب: قتل شبہ عمد کی تشریح اور اس بات کا بیان کہ بچے کی اور شبہ عمد کی دیت کس پر ہو گی اور اس بابت مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4831
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِحَجَرٍ وَهِيَ حُبْلَى , فَقَتَلَتْهَا ، " فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةً ، وَجَعَلَ عَقْلَهَا عَلَى عَصَبَتِهَا " ، فَقَالُوا : نُغَرَّمُ مَنْ لَا شَرِبَ ، وَلَا أَكَلْ ، وَلَا اسْتَهَلَّ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ ؟ فَقَالَ : " أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ ؟ ، هُوَ مَا أَقُولُ لَكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ` ایک عورت نے اپنی سوکن کو جو حمل سے تھی پتھر مارا ، اور وہ مر گئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیٹ کے بچے کی دیت ایک «غرہ» ( یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی ) ٹھہرائی اور اس کی دیت اس کے کنبے والوں کے ذمے ڈالی ، وہ بولے : کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ پیا نہ کھایا اور نہ چلایا اس جیسا خون تو لغو ہوتا ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” یہ دیہاتیوں کی سی سجع ہے ، حکم وہی ہے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´قتل شبہ عمد کی تشریح اور اس بات کا بیان کہ بچے کی اور شبہ عمد کی دیت کس پر ہو گی اور اس بابت مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو جو حمل سے تھی پتھر مارا، اور وہ مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیٹ کے بچے کی دیت ایک «غرہ» (یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی) ٹھہرائی اور اس کی دیت اس کے کنبے والوں کے ذمے ڈالی، وہ بولے: کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ پیا نہ کھایا اور نہ چلایا اس جیسا خون تو لغو ہوتا ہے۔ آپ نے [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4831]
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو جو حمل سے تھی پتھر مارا، اور وہ مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیٹ کے بچے کی دیت ایک «غرہ» (یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی) ٹھہرائی اور اس کی دیت اس کے کنبے والوں کے ذمے ڈالی، وہ بولے: کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ پیا نہ کھایا اور نہ چلایا اس جیسا خون تو لغو ہوتا ہے۔ آپ نے [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4831]
اردو حاشہ: یہ روایت مرسل ہے، تاہم شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4831 سے ماخوذ ہے۔