حدیث نمبر: 4820
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي الْجَنِينِ ، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ مَالِكٍ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ غُرَّةً " ، قَالَ طَاوُسٌ : إِنَّ الْفَرَسَ غُرَّةٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´طاؤس سے روایت ہے کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے جنین ( پیٹ میں موجود بچہ کی دیت ) کے سلسلے میں مشورہ طلب کیا ، تو حمل بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین ( پیٹ میں موجود بچہ ) میں ایک غرہ ( ایک لونڈی یا ایک غلام ) کا فیصلہ کیا ۔ طاؤس کہتے ہیں : گھوڑا بھی «غرہ» ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4820
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الدیات 21 (4572)، سنن ابن ماجہ/الدیات 11 (2641)، (تحفة الأشراف: 3444) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عورت کے پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان۔`
طاؤس سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے جنین (پیٹ میں موجود بچہ کی دیت) کے سلسلے میں مشورہ طلب کیا، تو حمل بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین (پیٹ میں موجود بچہ) میں ایک غرہ (ایک لونڈی یا ایک غلام) کا فیصلہ کیا۔ طاؤس کہتے ہیں: گھوڑا بھی «غرہ» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4820]
اردو حاشہ: احادیث میں غرہ کی تفسیر غلام یا لونڈی سے کی گئی ہے۔ حضرت طاوس نے گھوڑے کو اور بعض لوگوں نے گھوڑے کے ساتھ ساتھ خچر کو بھی شامل کر دیا ہے۔ بعض مرفوع روایات میں گھوڑے اور خچر کا ذکر مدرج اور کسی راوی کا وہم ہے کیونکہ غرہ کی تفسیر جب خود رسول اللہ ﷺ نے غلام یا لونڈی سے فرما دی ہے تو پھر ادھر ادھر التفات کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ رسول اللہ ﷺ کی بات قول فیصل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4820 سے ماخوذ ہے۔