حدیث نمبر: 4813
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَضَى فِي الْمُكَاتَبِ أَنْ يُودَى بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ دِيَةَ الْحُرِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب غلام کے بارے میں فیصلہ فرمایا : ” اس کی اتنے حصے کی دیت جس قدر وہ آزاد ہو چکا ہو آزاد کی دیت کے مثل ہو گی “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4813
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، ضعيف، انظر الحديث السابق (4812) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1259 | سنن ابي داود: 4581 | معجم صغير للطبراني: 1187 | سنن نسائي: 4812 | سنن نسائي: 4814 | سنن نسائي: 4816

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4581 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مکاتب غلام کی دیت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب غلام جسے قتل کر دیا جائے کی دیت میں فیصلہ فرمایا کہ قتل کے وقت جس قدر وہ بدل کتابت ادا کر چکا ہے اتنے حصہ کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہو گی اور جس قدر ادائیگی باقی ہے اتنے حصے کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہو گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4581]
فوائد ومسائل:
ایسا غلام جس نے اپنے مالک سے معاہدہ کیا ہو کہ میں اس قدر رقم دے کر آزاد ہو جاوں گا تو وہ اس مدت میں مکاتب کہلاتا ہے۔
(مکاتب تاکے زبر کے ساتھ)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4581 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4812 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مکاتب غلام کی دیت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب کے بارے میں حکم کیا کہ مکاتب غلام اگر قتل ہو جائے تو اس کی دیت اتنے حصے میں جو وہ بدل کتابت کے طور پر ادا کر چکا ہے آزاد کی دیت کے مثل ہو گی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4812]
اردو حاشہ: (1) محقق کتاب نے اس روایت کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن یہ روایت اور بعد والی روایات: 4813 اور 4814 بھی شواہد ومتابعات کی بنا پر صحیح ہیں۔ اس روایت کی متابعت اور شواہد کے لیے حدیث: 4815، 4816 ملاحظہ کیجئے۔
(2) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مکاتب جس قدر مکاتبت کی رقم ادا کر دے، اتنا آزاد تصور ہوگا، باقی غلام، مثلاً: جو غلام نصف رقم ادا کر چکا ہو، وہ نصف آزاد ہوگا، نصف غلام۔ اس حالت میں اگر وہ قتل کر دیا جائے تو آزاد حصے کی دیت پچاس اونٹ ہوگی اور باقی نصف غلام کی دیت دی جائے گی، یعنی پچیس اونٹ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4812 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4816 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مکاتب غلام کی دیت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مکاتب کا قتل ہو گیا تو آپ نے حکم دیا کہ جتنا وہ بدل مکاتبت ادا کر چکا ہے اسی قدر اس کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہو گی، اور جس قدر آزاد نہیں ہوا ہے اسی کے مطابق اس کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہو گی۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4816]
اردو حاشہ: مکاتب سے مراد وہ غلام ہے جس نے اپنے مالک سے کچھ رقم کی ادائیگی کے عوض اپنی آزادی کا معاہدہ کر رکھا ہو۔ اس معاہدے کو مکاتبت یا کتابت کہتے ہیں اور مقررہ رقم کو مال مکاتبت کہا جاتا ہے۔ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4816 سے ماخوذ ہے۔