سنن نسائي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
بَابُ : صَلاَةِ الْعَصْرِ فِي السَّفَرِ باب: سفر میں عصر کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 481
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قال : حَدَّثَنِي عَمِّي ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قال : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : سَمِعْتُ نَوْفَلَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ : " صَلَاةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک نماز ایسی ہے کہ جس کی وہ فوت ہو جائے گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ عصر کی نماز ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´سفر میں عصر کی نماز کا بیان۔`
نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نماز ایسی ہے کہ جس کی وہ فوت ہو جائے گویا اس کا گھربار لٹ گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ عصر کی نماز ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 481]
نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نماز ایسی ہے کہ جس کی وہ فوت ہو جائے گویا اس کا گھربار لٹ گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ عصر کی نماز ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 481]
481۔ اردو حاشیہ: ➊ سنن نسائی حدیث: 480 اور حدیث: 481 میں فرق یہ ہے کہ پہلی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اور دوسری نوفل بن معاویہ کا اپنا قول۔
➋ان تین روایات کا ظاہراً باب سے کوئی تعلق نہیں بنتا الایہ کہ کہا جائے کہ سفر میں سستی ہو جاتی ہے۔ بسا اوقات نماز کا وقت بھی گزر جاتا ہے۔ مسافر کو چاہیے کہ عصر کی نماز وقت سے ضائع نہ کرے ورنہ سخت نقصان ہو گا۔ وقت کے اندر ادا کرے۔
➋ان تین روایات کا ظاہراً باب سے کوئی تعلق نہیں بنتا الایہ کہ کہا جائے کہ سفر میں سستی ہو جاتی ہے۔ بسا اوقات نماز کا وقت بھی گزر جاتا ہے۔ مسافر کو چاہیے کہ عصر کی نماز وقت سے ضائع نہ کرے ورنہ سخت نقصان ہو گا۔ وقت کے اندر ادا کرے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 481 سے ماخوذ ہے۔