حدیث نمبر: 4808
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ سَمِعْنَاهُ مَرَّةً ، يَقُولُ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِاثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا يَعْنِي فِي الدِّيَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ ہزار درہم کا فیصلہ کیا یعنی دیت میں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4808
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظرما قبلہ (ضعیف)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4807 | سنن ترمذي: 1388 | سنن ابن ماجه: 2629 | سنن ابن ماجه: 2632

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´چاندی سے دیت کی ادائیگی کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ ہزار درہم کا فیصلہ کیا یعنی دیت میں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4808]
اردو حاشہ: (1) مذکورہ بالا دونوں روایات کی صحت مرفوعاً محل نظر ہے۔ راجح بات یہ ہے کہ یہ روایت مرسل ہے، تاہم بارہ ہزار درہم کے بارے میں یہ بات صحیح سند سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اونٹوں کی قیمت کا حساب لگا کر بارہ ہزار درہم مقرر کیے تھے۔ (سنن أبي داود، حدیث: 4542) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الإرواء: 7/ 304، ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 36، 186)
(2) اصل دیت تو اونٹ ہیں جن کی تفصیل پیچھے بیان ہو چکی ہے۔ اگر سونے چاندی یا سکوں میں دیت دینا ہو تو مذکورہ صفات کے اونٹوں کی قیمت دینا ہوگی جو علاقے اور زمانے کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4808 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4807 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´چاندی سے دیت کی ادائیگی کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے ایک شخص کو قتل کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار درہم مقرر کی، اور دیت لینے سے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان کیا «إلا أن أغناهم اللہ ورسوله من فضله» مگر یہ کہ اب اللہ اور اس کے رسول نے ان کو مالدار کر دیا ہے (المائدہ: ۵۰)، الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4807]
اردو حاشہ: جبکہ محمد بن مثنیٰ کی حدیث کے الفاظ اس کے ہم معنیٰ ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4807 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1388 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´دیت میں کتنے درہم دئیے جائیں؟`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت بارہ ہزار درہم مقرر کی۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1388]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(اس روایت کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے، جیساکہ امام ابوداوداورمولف نے صراحت کی ہے، اس کو ’’عمروبن دینار‘‘ سے سفیان بن عینیہ نے جو کہ محمد بن مسلم طائفی کے بالمقابل زیادہ ثقہ ہیں) نے بھی روایت کیا ہے لیکن انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا تذکرہ نہیں کیا ہے دیکھئے: الإرواء رقم 2245)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1388 سے ماخوذ ہے۔