حدیث نمبر: 4805
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ ، ثَلَاثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ ، وَثَلَاثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ ، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً ، وَعَشَرَةُ بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ " ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُهَا عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ , وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ إِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا , وَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا عَلَى نَحْوِ الزَّمَانِ مَا كَانَ , فَبَلَغَ قِيمَتُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الْأَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلِهَا مِنَ الْوَرِقِ ، قَالَ : وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الْبَقَرِ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ ، وَمَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الشَّاةِ أَلْفَيْ شَاةٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ عَلَى فَرَائِضِهِمْ فَمَا فَضَلَ فَلِلْعَصَبَةِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْ يَعْقِلَ عَلَى الْمَرْأَةِ عَصَبَتُهَا مَنْ كَانُوا , وَلَا يَرِثُونَ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا , وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا , وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص خطا ( غلطی ) سے مارا جائے اس کی دیت سو اونٹ ہے : تیس اونٹنیاں ہیں جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہوں ، اور آپ نے گاؤں والوں پر دیت کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہی قیمت کی چاندی ، یہ قیمت وقت کے حساب سے بدلتی رہتی ، اونٹ مہنگے ہوتے تو دیت ( کی مالیت ) بھی زیادہ ہوتی اور جب سستے ہوتے تو دیت بھی کم ہو جاتی ، چنانچہ آپ کے زمانے میں دیت کی قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک پہنچ گئی یا اسی کے برابر چاندی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فیصلہ فرمایا : گائے والوں سے دو سو گائیں اور بکری والوں سے دو ہزار بکریاں ( دیت میں ) لی جائیں ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا : دیت مقتول کے ورثاء کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق ترکہ ہے ، پھر جو بچ رہے وہ عصبہ کے اوپر ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عورت کی طرف سے اس کی دیت اس کے عصبہ ادا کریں گے جو بھی ہوں ، لیکن وہ ( ملنے والی ) دیت میں کسی چیز کے وارث نہیں ہوں گے سوائے اس کے جو بچ رہے ، اور اگر عورت مقتول ہو تو اس کی دیت اس کے ورثاء میں تقسیم ہو گی اور وہ اس کے قاتل کو قتل کریں گے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4805
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الدیات 18 (4541)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2630)، (تحفة الأشراف: 8709، 8710)، مسند احمد (2/183، 217، 224) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2630 | سنن ابن ماجه: 2647 | سنن ابي داود: 4541 | سنن ابي داود: 4542

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´تلامذہ خالدالحذاء کے اختلاف کا ذکر۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص خطا (غلطی) سے مارا جائے اس کی دیت سو اونٹ ہے: تیس اونٹنیاں ہیں جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہوں، اور آپ نے گاؤں والوں پر دیت کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4805]
اردو حاشہ: (1) اس حدیث مبارکہ میں قتل خطا کی دیت کی مقدار کا بیان ہے اور وہ چار قسم کے سو اونٹ ہے، اس کی تفصیل حدیث مذکورہ میں بیان کر دی گئی ہے۔
(2) یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اصل دیت اونٹ ہی ہیں، تاہم اونٹ میسر نہ ہونے کی صورت میں سو اونٹوں کی قیمت دیت ہوگی، اگر اونٹ مہنگے ہوں گے تو دیت کی رقم یا زیادہ ہوگی اور اگر اونٹ سستے ہوں گے تو پھر دیت کی رقم بھی کم ہوگی۔ اگر کوئی شخص دیت میں گائے بیل دینا چاہے تو دیت دو سو گائے بیل ہوگی۔ اور اگر دیت بکریوں کی صورت میں ادا کرنا چاہے تو دو ہزار بکریاں دیت ہوگی۔
(3) قاتل سے قصاص لینا ورثاء کا حق ہے۔ وہ چاہیں تو قصاص لیں اور اگر چاہیں تو معاف کر دیں۔ مقتول کے ورثاء، یعنی ورثائے مال کے علاوہ دیگر عصبات (عزیز واقارب) وغیرہ کو قصاص لینے یا معافی دینے کا کوئی حق نہیں۔ ہاں، اگر مقتول کے ورثاء میں سے کوئی مرد یا عورت نہ ہو تو پھر دیگر عزیز واقارب کو یہ حق مل جائے گا۔ واللہ أعلم!
(4) مقتول کی دیت، اس کے دوسرے مال کی طرح اس کے ورثاء کا حق ہے، یعنی دیت بھی، انھی میں تقسیم ہوگی۔ پہلے اصحاب الفروض (جن کا حصہ شریعت نے مقرر کر دیا ہے) لیں گے، ان سے جو بچ جائے وہ عصبہ لیں گے۔ البتہ اگر کسی شخص سے خطا (غلطی سے) قتل ہو جائے تو اس کے ذمہ عائد ہونے والی دیت اس کے عصبہ ہی ادا کریں گے، عصبہ قریب ترین مذکر کو کہتے ہیں، مثلاً: بیٹے، پوتے، باپ، دادا، بھائی، بھتیجے، چچا، تایا، ان کی اولاد۔ اور ورثاء سے مراد وہ رشتے دار ہیں جن کا حصہ وراثت میں مقرر کیا گیا ہے۔
(5) یہ حدیث متعلقہ باب سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ البتہ آئندہ باب سے اس کا تعلق ہے اور سنن نسائی میں بہت جگہ ایسا ہوا ہے، خصوصاً جب کہ سابقہ باب کے تحت روایات زیادہ ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4805 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4542 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دیت کی مقدار کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت ۱؎ آٹھ سو دینار، یا آٹھ ہزار درہم تھی، اور اہل کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی، پھر اسی طرح حکم چلتا رہا، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: سنو، اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے سونے والوں پر ایک ہزار دینار، اور چاندی والوں پر بارہ ہزار (درہم) دیت ٹھہرائی، اور گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑوں کی دیت مقرر کی، ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4542]
فوائد ومسائل:
حکومت اسلامیہ کے اصحاب حل وعقد پر لازم ہے کہ دیت جیسے شرعی واجبات میں بازار کے بھاؤ کے مطابق عوام میں اعلان عام کرتے رہا کریں تاکہ کسی پر ظلم نہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4542 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2630 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قتل خطا کی دیت۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلطی سے مارا جائے اس کا خون بہا تیس اونٹنیاں ہیں، جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں، اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں، اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں، اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہوں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گاؤں والوں پر دیت (خون بہا) کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہی قیمت کی چاندی، یہ قیمت وقت کے حساب سے بدلتی رہتی، اونٹ مہنگے ہوتے تو دیت بھی زیادہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2630]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دیت کی اصل مقدار اونٹوں سے متعین ہوتی ہے۔

(2)
اگر اونٹ ادا کرنا ممکن نہ ہوں تو گائے بکری کی صورت میں بھی دیت ادا ہوسکتی ہے۔

(3دیت کی ادائیگی نقد رقم کی صورت میں بھی ممکن ہے، اس صورت میں حکومت کو یا جج کو چاہیے کہ سو اونٹوں کی قیمت کا اندازہ کرکے اتنی دیت کا فیصلہ دے۔

(4)
اونٹوں کی قیمت میں کمی پیشی سے نقد رقم کی مقدار میں بھی کمی بیشی ہوسکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2630 سے ماخوذ ہے۔