حدیث نمبر: 4804
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَطَأُ شِبْهُ الْعَمْدِ يَعْنِي بِالْعَصَا , وَالسَّوْطِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قاسم بن ربیعہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ڈنڈے یا کوڑے سے غلطی سے قتل ہو جانا شبہ عمد کی طرح ہے ، اس میں سو اونٹ کی دیت ہو گی جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4804
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4797 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، مگر پچھلی روایتیں متصل مرفوع ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´تلامذہ خالدالحذاء کے اختلاف کا ذکر۔`
قاسم بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ڈنڈے یا کوڑے سے غلطی سے قتل ہو جانا شبہ عمد کی طرح ہے، اس میں سو اونٹ کی دیت ہو گی جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4804]
اردو حاشہ: (1) مندرجہ بالا بعض روایات میں قتل خطا کے ساتھ عمد کا لفظ آیا ہے۔ اس سے مراد بھی شبہ عمد ہی ہے کیونکہ قتل عمد تو قتل خطا نہیں ہو سکتا۔ یہ تو آپس میں مقابل ہیں، لہٰذا مراد شبہ عمد ہی ہوگا، یعنی جو دیکھنے میں عمد جیسا ہو مگر حقیقتاً خطا ہو کیونکہ قاتل کی نیت قتل کی نہیں تھی بلکہ ویسے مارنے پیٹنے کی تھی۔ خطا (غلطی سے) قتل ہوگیا۔
(2) قتل شبہ عمد کی دیت میں سے چالیس اونٹنیوں کا بیان تو کر دیا گیا ہے کہ وہ حاملہ ہوں، باقی ساٹھ کا بیان نہیں کیا گیا مگر دیگر احادیث میں ذکر ہے کہ تیس حقے ہوں (تین سالہ اونٹنیاں جو چوتھے میں داخل ہوں) اور تیس جزعے (چار سالہ اونٹنیاں جو پانچویں میں داخل ہوں)۔ قتل عمد میں بھی معافی کی صورت میں دیت ہوگی۔ تیس حقے، تیس جذعے اور چالیس حاملہ (پانچ سے آٹھ سالہ)۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4804 سے ماخوذ ہے۔