سنن نسائي
كتاب القسامة والقود والديات— کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى خَالِدٍ الْحَذَّاءِ باب: تلامذہ خالدالحذاء کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4798
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، فَقَالَ : " أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ ، بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ فِيهَا أَرْبَعُونَ ثَنِيَّةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهُنَّ خَلِفَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایک صحابی سے روایت ہے کہ` فتح مکہ کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ، اور فرمایا : ” سنو ! قتل خطا میں یعنی شبہ عمد کے طور پر کوڑے ، ڈنڈے اور پتھر سے مرنے والے کی دیت سو اونٹ ہے ، ان میں چالیس «ثنی» سے لے کر «بازلت» ہوں ( یعنی چھ برس سے نو برس تک کی ہوں ) اور سب بوجھ لادنے کے لائق ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´تلامذہ خالدالحذاء کے اختلاف کا ذکر۔`
ایک صحابی سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اور فرمایا: ” سنو! قتل خطا میں یعنی شبہ عمد کے طور پر کوڑے، ڈنڈے اور پتھر سے مرنے والے کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس «ثنی» سے لے کر «بازلت» ہوں (یعنی چھ برس سے نو برس تک کی ہوں) اور سب بوجھ لادنے کے لائق ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4798]
ایک صحابی سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اور فرمایا: ” سنو! قتل خطا میں یعنی شبہ عمد کے طور پر کوڑے، ڈنڈے اور پتھر سے مرنے والے کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس «ثنی» سے لے کر «بازلت» ہوں (یعنی چھ برس سے نو برس تک کی ہوں) اور سب بوجھ لادنے کے لائق ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4798]
اردو حاشہ: ”ثنیہ‘“ پانچ سال کی اونٹنی کو کہتے ہیں جو چھٹے سال میں داخل ہو اور ”بازل“ جو آٹھ سال کی ہو اور نویں میں داخل ہو۔ گویا چالیس اونٹنیاں پانچ سال سے آٹھ سال کی عمر تک ہوں، نیز وہ حاملہ ہوں۔ ظاہر ہے یہ بہت مہنگی ہوں گی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4798 سے ماخوذ ہے۔