حدیث نمبر: 4791
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ عَائِذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ " . مُرْسَلٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوسلمہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کا کوئی شخص قتل کر دیا گیا “ ( یعنی وہ چاہے تو قصاص لے ، اور چاہے تو دیت لے ) ( یہ روایت مرسل ہے ) ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4791
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، وانظر رقم 4789 (صحیح) (یہ حدیث مرسل ہے، جیسا کہ مؤلف نے ذکر فرمایا اس لیے کہ اس روایت میں ابو سلمہ نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، لیکن سابقہ حدیث میں واسطہ کا ذکر ہے یعنی ابوہریرہ رضی الله عنہ)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جب مقتول کا وارث قصاص معاف کر دے تو کیا قاتل عمد سے دیت لی جائے گی؟`
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی شخص قتل کر دیا گیا (یعنی وہ چاہے تو قصاص لے، اور چاہے تو دیت لے) (یہ روایت مرسل ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4791]
اردو حاشہ: مرسل کا مطلب یہ ہے کہ اس روایت میں اصل راوی، یعنی صحابی کا نام نہیں لیا گیا بلکہ شاگرد نے خود ہی فرمان بیان کر دیا۔ رشتہ دار ہر رشتہ دار مقتول کا وارث نہیں بن سکتا بلکہ اولین حق دار بیٹے، پوتے ہیں۔ پھر باپ دادا، پھر بھائی بھتیجے، پھر چچا وغیرہ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4791 سے ماخوذ ہے۔