حدیث نمبر: 4787
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَاصٍ فَأَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا ایک معاملہ آیا تو آپ نے اسے معاف کر دینے کا حکم دیا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی: سفارش کی تاکہ قصاص نہ لے کر دیت پر راضی ہو جائے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4787
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الدیات 3 (4497)، سنن ابن ماجہ/البیوع 35 (2692)، (تحفة الأشراف: 1095)، مسند احمد (3/213، 252) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´قصاص معاف کر دینے کے حکم کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا ایک معاملہ آیا تو آپ نے اسے معاف کر دینے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4787]
اردو حاشہ: حدیث میں لفظ امر ہے۔ عربی میں اس کے مختلف مفہوم ہیں۔ ان میں سے ایک مشورہ بھی ہے۔ قصاص اولیائے مقتول کا شرعی حق ہے، لہٰذا انھیں قصاص چھوڑنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا، اگرچہ معاف کرنا ہی افضل ہے۔ البتہ مشورہ دیا جا سکتا ہے، اس لیے یہاں اس معنیٰ کو ترجیح دی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4787 سے ماخوذ ہے۔