حدیث نمبر: 4777
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَالَ , فَاسْتَقِدْ " ، قَالَ : بَلْ قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران اچانک ایک شخص آپ کے اوپر گر پڑا تو آپ نے اسے ایک لکڑی جو آپ کے ساتھ تھی چبھا دی ، وہ شخص نکل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آؤ اور بدلہ لے لو “ اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے تو معاف کر دیا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4777
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4536) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الدیات 15 (4536)، (تحفة الأشراف: 4147)، مسند احمد (3/28) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عبیدہ‘‘ لین الحدیث ہیں)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4778 | سنن ابي داود: 4536

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4778 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نیزے کی ضرب کے قصاص کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ اسی دوران اچانک ایک شخص آپ پر گر پڑا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی چبھا دی، وہ شخص چیخ پڑا تو آپ نے اس سے فرمایا: آؤ، بدلہ لے لو اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے تو معاف کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4778]
اردو حاشہ: مذکورہ دونوں روایتیں سنداً ضعیف ہیں، تاہم دیگر دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے اور اگر کبھی آپ کسی پر سختی کرتے تو اپنے آپ کو بدلہ دینے کے لیے پیش کر دیتے۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کوکھ میں لکڑی چبھوئی تو انھوں نے کہا: مجھے بدلہ دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لے لو۔ انھوں نے کہا: آپ کے جسم پر تو قمیص ہے جبکہ مجھ پر قمیص نہیں تھی۔ (یہ بات سن کر) نبی ﷺ نے اپنی قمیص اوپر کر دی۔ اسید بن حضیر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ کو اپنے بازوؤں میں لے لیا اور آپ کے پہلو مبارک پر بوسہ دینے لگے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا یہی ارادہ تھا۔ دیکھیے: (سنن أبي داود، الأدب، باب فی قبلة الجسد، حدیث: 5224)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4778 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4536 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مار پیٹ کا قصاص اور امیر کو اپنے سے قصاص دلوانے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور آپ کے اوپر جھک گیا تو اس کے چہرے پر خراش آ گئی تو آپ نے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی اسے چبھو دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: آؤ قصاص لے لو ۱؎ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے معاف کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4536]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے، مگر باب بالکل صحیح ہے کہ نبی ؐ اپنے آپ کو بدلہ دینے کےلئے پیش فرما دیا کرتے تھے، جیسے کہ آئندہ حدیث 5224 میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4536 سے ماخوذ ہے۔