سنن نسائي
كتاب القسامة والقود والديات— کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ باب: اس حدیث میں عطاء بن ابی رباح کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمَّارٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى : أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَاسْتَأْجَرَ أَجِيرًا ، فَقَاتَلَ رَجُلًا , فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ , فَلَمَّا أَوْجَعَهُ نَتَرَهَا فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَعَضُّ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ " فَأَبْطَلَ ثَنِيَّتَهُ .
´صفوان بن یعلیٰ سے روایت ہے کہ` ان کے والد نے غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ، انہوں نے ایک نوکر رکھ لیا تھا ، اس کا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا تو اس آدمی نے اس ( نوکر ) کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا ، جب اسے تکلیف ہوئی تو اس نے اسے زور سے کھینچا ، تو اس ( آدمی ) کا دانت نکل پڑا ، یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا ، تو آپ نے فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے بھائی کو چبائے جیسے اونٹ چباتا ہے ؟ “ چنانچہ آپ نے دانت کی دیت نہیں دلوائی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
صفوان بن یعلیٰ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا، انہوں نے ایک نوکر رکھ لیا تھا، اس کا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا تو اس آدمی نے اس (نوکر) کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، جب اسے تکلیف ہوئی تو اس نے اسے زور سے کھینچا، تو اس (آدمی) کا دانت نکل پڑا، یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، تو آپ نے فرمایا: ” کیا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے بھائی کو چبائے جیسے [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4776]
(2) بعض روایات میں یعلی بن امیہ ہے اور بعض میں یعلی ابن منیہ۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ امیہ حضرت یعلی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے باپ کا نام ہے اور منیہ ماں کا اس لیے کبھی ان کی نسبت باپ کی طرف کی گئی اور کبھی ماں کی طرف، لہٰذا اس میں کوئی اشکال نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (فتح الباري شرح صحیح البخاري: 12/ 274، 275)