سنن نسائي
كتاب القسامة والقود والديات— کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ باب: اس حدیث میں عطاء بن ابی رباح کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمَّيْهِ سَلَمَةَ , وَيَعْلَى ابْنَيْ أُمَيَّةَ ، قَالَا : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا ، فَقَاتَلَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ , فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ , فَجَذَبَهَا مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ ، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ ، فَقَالَ : " يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ كَعَضِيضِ الْفَحْلِ ، ثُمَّ يَأْتِي يَطْلُبُ الْعَقْلَ ، لَا عَقْلَ لَهَا ، فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
´سلمہ بن امیہ اور یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے ، ہمارے ساتھ ایک اور ساتھی تھے وہ کسی مسلمان سے لڑ پڑے ، اس نے ان کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا ، انہوں نے ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کا دانت اکھڑ گیا ، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دیت کا مطالبہ کرنے آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کے پاس جا کر اونٹ کی طرح اسے دانت کاٹتا ہے ، پھر دیت مانگنے آتا ہے ، ایسے دانت کی کوئی دیت نہیں “ ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیت نہیں دلوائی ۔