سنن نسائي
كتاب القسامة والقود والديات— کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
بَابُ : تَعْظِيمِ قَتْلِ الْمُعَاهِدِ باب: ذمی (معاہد) کو قتل کرنے کی شناعت و وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4752
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ ثُرْمُلَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهِدَةً بِغَيْرِ حِلِّهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَشُمَّ رِيحَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی ذمی کی جان لی جب کہ اس کا خون جائز نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت کی خوشبو حرام کر دی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2760 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ذمی اور جس سے عہد و پیمان ہو اس کا پاس و احترام ضروری ہے۔`
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کسی معاہد کو بغیر کسی وجہ کے قتل کرے گا تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2760]
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کسی معاہد کو بغیر کسی وجہ کے قتل کرے گا تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2760]
فوائد ومسائل:
1۔
(معاہد) (ھا پرزبر) یعنی ایسا شخص جو کافرہوتے ہوئے حکومت اسلامیہ میں رہ رہا ہو۔
اورٹیکس وغیرہ ادا کرتاہو۔
تو اسے ذمی اور معاہد کہتےہیں۔
2۔
گناہ کبیرہ کے مرتکب لوگوں کے بارے میں جو احادیث میں آتا ہے۔
کہ اس پر جنت حرام ہے۔
یا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
ان کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا مسلمان جنت میں جانے والے اولین لوگوں میں شامل نہیں ہوگا۔
بلکہ وہ سزا بھگتنے کے بعد جنت میں جائےگا۔
إلا أن یشاء اللہ یہ معنی نہیں ہے ہیں کہ وہ جنت میں جائے گاہی نہیں۔
کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اہل توحید جنت میں داخل ہوں گے۔
1۔
(معاہد) (ھا پرزبر) یعنی ایسا شخص جو کافرہوتے ہوئے حکومت اسلامیہ میں رہ رہا ہو۔
اورٹیکس وغیرہ ادا کرتاہو۔
تو اسے ذمی اور معاہد کہتےہیں۔
2۔
گناہ کبیرہ کے مرتکب لوگوں کے بارے میں جو احادیث میں آتا ہے۔
کہ اس پر جنت حرام ہے۔
یا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
ان کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا مسلمان جنت میں جانے والے اولین لوگوں میں شامل نہیں ہوگا۔
بلکہ وہ سزا بھگتنے کے بعد جنت میں جائےگا۔
إلا أن یشاء اللہ یہ معنی نہیں ہے ہیں کہ وہ جنت میں جائے گاہی نہیں۔
کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اہل توحید جنت میں داخل ہوں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2760 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4751 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ذمی (معاہد) کو قتل کرنے کی شناعت و وعید کا بیان۔`
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کسی ذمی کو بلا وجہ قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت حرام کر دی ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4751]
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کسی ذمی کو بلا وجہ قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت حرام کر دی ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4751]
اردو حاشہ: ”جنت حرام“ یعنی اس شخص پر جنت میں پہلے پہل داخلہ حرام ہے کیونکہ یہ ایسا جرم ہے جس کی سزا ضرور ملے گی، لہٰذا وہ اولین طور پر جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ کبھی جنت میں نہیں جائے گا کیونکہ یہ بات تو کسی مومن کو قتل کرنے کی صورت میں بھی نہیں کہی جا سکتی۔ شریعت کی واضح نصوص صراحتاً دلالت کرتی ہیں کہ کسی بھی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہمیشہ کے لیے جہنمی نہیں ہوگا، آخر کار وہ جنت میں ضرور جائے گا بشرطیکہ وہ کلمہ گو اور موحد ہو۔ قتل بھی گناہ کبیرہ ہی ہے۔ تفصیلی بحث حدیث نمبر 4004 میں گزر چکی ہے۔ (ذمی کے قتل کی بحث کے لیے دیکھیے، فوائد ومسائل حدیث: 4738)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4751 سے ماخوذ ہے۔