حدیث نمبر: 475
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قال : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو الْمَلِيحِ ، قال : كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ ، فَقَالَ : بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ، فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالملیح ( ابوالملیح بن اسامہ ) کہتے ہیں کہ` بدلی والے ایک دن میں ہم بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو انہوں نے کہا : نماز جلدی پڑھو ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل رائیگاں گیا “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے اس معصیت کی سنگینی کا اظہار مقصود ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصلاة / حدیث: 475
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المواقیت 15 (553)، 34 (594)، وقد اخرجہ: (تحفة الأشراف: 2013)، مسند احمد 5/349، 350، 357، 360، 361 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عصر کی نماز چھوڑ دینے والے شخص کا بیان۔`
ابوالملیح (ابوالملیح بن اسامہ) کہتے ہیں کہ بدلی والے ایک دن میں ہم بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو انہوں نے کہا: نماز جلدی پڑھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل رائیگاں گیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 475]
475۔ اردو حاشیہ: ➊ابرآلود دن میں سورج نظر نہیں آتا، اس لیے خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں غروب ہی نہ ہو جائے، لہٰذا عصر کی نماز اول وقت ہی میں پڑھ لینی چاہیے تاکہ تاخیر قضا تک نہ پہنچا دے۔ ایک مرفوع روایت میں یہ بات صراحتاً بیان کی گئی ہے۔ دیکھیے: [صحيح البخاري، مواقيت الصلاة، حديث: 594]
اس کا عمل ضائع ہو گیا۔ بعض گناہ حبطِ اعمال کا سبب بن جاتے ہیں، جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھگڑنا اور آواز بلند کرنا، ریاکاری کرنا، نجومی اور دست شناس وغیرہ کے پاس جانا، البتہ یہ ضروری نہیں کہ سارے سابقہ اعمال ضائع ہو جائیں، کیونکہ اس قسم کا احباط تو کفر و ارتداد ہی کی بنا پر ہوتا ہے۔ مذکورہ حدیث میں وہ عمل مراد ہے جس کی بنا پر وہ نماز سے مشغول رہا۔ اور ضائع ہونے کا مطلب ہے کہ وہ عمل اسے فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ یا کسی اور وجہ سے کامل احباط بھی ممکن ہے جبکہ سرے سے اس کے وجوب کا منکر ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ ان الفاظ سے تشدید وتعظیم گنا ہ مقصود ہے نہ کہ ظاہری الفاظ۔ یہ مفہوم اگرچہ بعید نہیں مگر مندرجہ بالا مفہوم الفاظ کے قریب تر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 475 سے ماخوذ ہے۔