سنن نسائي
كتاب القسامة والقود والديات— کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
بَابُ : سُقُوطِ الْقَوَدِ مِنَ الْمُسْلِمِ لِلْكَافِرِ باب: کافر کے بدلے مسلمان کے قتل نہ کیے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4749
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ , فَإِذَا فِيهَا : " الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو چھوڑ کر مجھے کوئی بات نہیں بتائی سوائے اس کے جو میری تلوار کی نیام میں رکھے اس صحیفہ میں ہے ، لوگوں نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا یہاں تک کہ انہوں نے وہ صحیفہ نکالا ، اس میں لکھا تھا : ” سب مسلمانوں کے خون برابر ہیں ، ان کا ادنیٰ اور معمولی آدمی بھی کسی کا ذمہ لے سکتا ہے ، اور وہ اپنے دشمن کے خلاف ایک ہاتھ کی طرح ( متحد ) ہیں ، کسی کافر کے بدلے کوئی مومن نہیں مارا جائے گا ، اور نہ کوئی ذمی جب تک وہ ذمہ میں رہے “ ۔