سنن نسائي
كتاب القسامة والقود والديات— کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ فِيهِ باب: اس سلسلہ میں علقمہ بن وائل کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاق الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَتَلَ أَخِي ، قَالَ : " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ كَمَا قَتَلَ أَخَاكَ " ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : اتَّقِ اللَّهَ وَاعْفُ عَنِّي فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأَجْرِكَ وَخَيْرٌ لَكَ وَلِأَخِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : فَخَلَّى عَنْهُ ، قَالَ : فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ لَهُ : قَالَ : " فَأَعْنَفَهُ , أَمَا إِنَّهُ كَانَ خَيْرًا مِمَّا هُوَ صَانِعٌ بِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , يَقُولُ : يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي " .
´بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ اس شخص نے میرے بھائی کو مار ڈالا ، آپ نے فرمایا : ” جاؤ اسے بھی مار ڈالو جیسا کہ اس نے تمہارے بھائی کو مارا ہے “ ، اس شخص نے اس سے کہا : اللہ سے ڈرو اور مجھے معاف کر دو ، اس میں تمہیں زیادہ ثواب ملے گا اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے اور تمہارے بھائی کے لیے بہتر ہو گا ، یہ سن کر اس نے اسے چھوڑ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی ، آپ نے اس سے پوچھا تو اس نے جو کہا تھا ، آپ سے بیان کیا ، آپ نے اس سے زور سے فرمایا : ” سنو ! یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے جو وہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ معاملہ کرتا ، وہ کہے گا ( قیامت کے دن ) اے میرے رب ! اس سے پوچھ اس نے مجھے کس جرم میں قتل کیا “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ اس شخص نے میرے بھائی کو مار ڈالا، آپ نے فرمایا: ” جاؤ اسے بھی مار ڈالو جیسا کہ اس نے تمہارے بھائی کو مارا ہے “، اس شخص نے اس سے کہا: اللہ سے ڈرو اور مجھے معاف کر دو، اس میں تمہیں زیادہ ثواب ملے گا اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے اور تمہارے بھائی کے لیے بہتر ہو گا، یہ سن کر اس نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4735]
(2) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عدالت سے سزا ہونے کے بعد بھی قاتل، مقتول کے وارث سے معافی کی درخواست کر سکتا ہے اور وہ چاہے تو معاف کر سکتا ہے کیونکہ یہ خالصتاً اسی کا حق ہے۔ اور یہ صرف قتل کے مسئلے میں ہے۔ چوری وغیرہ کے مسئلے میں عدالت میں کیس آنے سے پہلے تو معاف کر سکتا ہے بعد میں نہیں۔ جیسا کہ دوسری حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔ واللہ أعلم