سنن نسائي
كتاب القسامة والقود والديات— کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ فِيهِ باب: اس سلسلہ میں علقمہ بن وائل کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُمْ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ قَتَلَ رَجُلًا , فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ يَقْتُلُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجُلَسَائِهِ : " الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " ، قَالَ : فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ ، فَلَمَّا أَخْبَرَهُ تَرَكَهُ ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ حِينَ تَرَكَهُ يَذْهَبُ . فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبٍ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَشْوَعَ ، قَالَ : وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الرَّجُلَ بِالْعَفْوِ .
´وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا ، اس نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا ، چنانچہ آپ نے اسے قتل کرنے کے لیے مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا ، پھر آپ نے اپنے ساتھ بیٹھنے والوں سے فرمایا : ” قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے “ ۱؎ ، ایک شخص اس وارث کے پیچھے گیا اور اسے خبر دی ، جب اسے یہ معلوم ہوا تو اس نے قاتل کو چھوڑ دیا ، جب اس نے قاتل کو چھوڑ دیا تاکہ وہ چلا جائے تو میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا ہے ۔ میں نے اس کا ذکر حبیب سے کیا تو انہوں نے کہا : مجھ سے سعید بن اشوع نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو معاف کرنے کا حکم دیا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا، اس نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، چنانچہ آپ نے اسے قتل کرنے کے لیے مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا، پھر آپ نے اپنے ساتھ بیٹھنے والوں سے فرمایا: ” قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے “ ۱؎، ایک شخص اس وارث کے پیچھے گیا اور اسے خبر دی، جب اسے یہ معلوم ہوا تو اس نے قاتل کو چھوڑ دیا، جب اس نے قاتل کو چھوڑ دیا تاکہ وہ چلا جائے تو میں نے اسے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4733]
(2) ”دونوں آگ میں“ یہ مطلب نہیں کہ اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو دونوں آگ میں جائیں گے۔ یہ معنیٰ مسلمات کے خلاف ہیں کیونکہ قتل کیے جانے کی صورت میں قاتل کا گناہ معاف ہو جائے گا کیونکہ قصاص لینے والا تو اپنا حق وصول کر لے گا۔ وہ آگ میں کیوں؟ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر قاتل اور مقتول دونوں ایک دوسرے کے قتل کے درپے رہے ہوں تو وہ دونوں آگ میں جائیں گے۔ ضروری نہیں کہ صرف قاتل ہی قصور وار ہو، لہٰذا معاف کر دینا چاہیے۔ اس قسم کے الفاظ سے مقصود معافی کے جذبات کو ابھارنا تھا اور وہ مقصود حاصل ہوگیا۔ واللہ أعلم