سنن نسائي
كتاب القسامة والقود والديات— کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ سَهْلٍ فِيهِ باب: اس سلسلے میں سہل کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ ابْنَ مُحَيِّصَةَ الْأَصْغَرَ أَصْبَحَ قَتِيلًا عَلَى أَبْوَابِ خَيْبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِمْ شَاهِدَيْنِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ أَدْفَعْهُ إِلَيْكُمْ بِرُمَّتِهِ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمِنْ أَيْنَ أُصِيبُ شَاهِدَيْنِ وَإِنَّمَا أَصْبَحَ قَتِيلًا عَلَى أَبْوَابِهِمْ ؟ قَالَ : " فَتَحْلِفُ خَمْسِينَ قَسَامَةً ؟ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ أَحْلِفُ عَلَى مَا لَا أَعْلَمُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَنَسْتَحْلِفُ مِنْهُمْ خَمْسِينَ قَسَامَةً " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نَسْتَحْلِفُهُمْ وَهُمْ الْيَهُودُ ؟ فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَتَهُ عَلَيْهِمْ , وَأَعَانَهُمْ بِنِصْفِهَا .
´عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` محیصہ کے چھوٹے بیٹے کا خیبر کے دروازوں کے پاس قتل ہو گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو گواہ لاؤ کہ کس نے قتل کیا ہے ، میں اسے اس کی رسی سمیت تمہارے حوالے کروں گا “ ، وہ بولے : اللہ کے رسول ! ہمیں گواہ کہاں سے ملیں گے ؟ وہ تو انہیں کے دروازے پر قتل ہوا ہے ، آپ نے فرمایا : ” تو پھر تمہیں پچاس قسمیں کھانی ہوں گی “ ، وہ بولے : اللہ کے رسول ! جسے میں نہیں جانتا اس پر قسم کیوں کر کھاؤں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تم ان سے پچاس قسمیں لے لو “ ، وہ بولے : اللہ کے رسول ! ہم ان سے قسمیں کیسے لے سکتے ہیں وہ تو یہودی ہیں ، تو آپ نے اس کی دیت یہودیوں پر تقسیم کی اور آدھی دیت دے کر ان کی مدد کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ محیصہ کے چھوٹے بیٹے کا خیبر کے دروازوں کے پاس قتل ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " دو گواہ لاؤ کہ کس نے قتل کیا ہے، میں اسے اس کی رسی سمیت تمہارے حوالے کروں گا "، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہمیں گواہ کہاں سے ملیں گے؟ وہ تو انہیں کے دروازے پر قتل ہوا ہے، آپ نے فرمایا: " تو پھر تمہیں پچاس قسمیں کھانی ہوں گی "، وہ بولے: اللہ کے رسول! جسے میں نہیں جانتا ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4724]