سنن نسائي
كتاب القسامة والقود والديات— کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ سَهْلٍ فِيهِ باب: اس سلسلے میں سہل کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ , وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُمَا أَتَيَا خَيْبَرَ ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ فَتَفَرَّقَا لِحَوَائِجِهِمَا ، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ قَتِيلًا فَدَفَنَهُ ، ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ , وَحُوَيِّصَةُ , وَمُحَيِّصَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ سِنًّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبِّرِ الْكُبْرَ " ، فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَحْلِفُونَ بِخَمْسِينَ يَمِينًا مِنْكُمْ فَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ أَوْ قَاتِلِكُمْ ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ ؟ قَالَ : " تُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ؟ فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ .
´سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` عبداللہ بن سہل ، محیصہ بن مسعود بن زید خیبر رضی اللہ عنہما گئے ، ان دنوں صلح چل رہی تھی ، وہ اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہو گئے ، پھر محیصہ رضی اللہ عنہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ( دیکھا کہ ) وہ مقتول ہو کر اپنے خون میں لوٹ رہے تھے ، تو انہیں دفن کیا اور مدینے آئے ، پھر عبدالرحمٰن بن سہل ، حویصہ اور محیصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو عبدالرحمٰن نے بات کی وہ عمر میں سب سے چھوٹے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بڑے کا لحاظ کرو “ ، چنانچہ وہ خاموش ہو گئے ، پھر ان دونوں نے بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم اپنے پچاس آدمیوں کو قسم کھلاؤ گے تاکہ اپنے آدمی ( کے خون بہا ) یا اپنے قاتل ( خون ) کے حقدار بنو ؟ “ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کیوں کر قسم کھائیں گے حالانکہ نہ ہم وہاں موجود تھے اور نہ ہی ہم نے دیکھا ۔ آپ نے فرمایا : ” یہودی پچاس قسمیں کھا کر تمہارا شک دور کریں گے “ ، وہ بولے : اللہ کے رسول ! ہم کافروں کی قسم کا اعتبار کیوں کر کریں گے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ لوگ تمھارے ساتھی کی دیت ادا کریں گے یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔
‘‘ آپ نے مزید فرمایا: ’’کیا تم لوگ قسم اٹھا کر اپنے ساتھی کے خون کے حق دار بنو گے؟‘‘ انھوں نے کہا: ہم کس طرح قسم اٹھائیں جبکہ ہم وہاں موجود نہیں تھے اور نہ ہم نے کچھ دیکھا ہی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پھر وہ پچاس قسمیں اٹھا کر تم سے خود کو بری کرلیں۔
‘‘ انھوں نے کہا: ہم کافروں کی قسموں کا کیسے اعتبار کریں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کر دی۔
(صحیح البخاري، الجزیة، حدیث: 3173)
مقصد یہ ہے کہ جھگڑا ختم کرنے کے لیے ایسے معاملات میں بیت المال سے دیت ادا کر دی جائے۔
جب بیت المال نہ ہو تو حکومت اپنے خزانے سے مقتول کا خون بہا ادا کر دے۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا اس حدیث سے مقصود یہ ہے کہ قسامت میں قصاص کے بجائے دیت دینے پر فیصلہ ہوگا جیسا کہ مذکورہ حدیث میں وضاحت ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا موقف یہ معلوم ہوتا ہے کہ قسامت میں قسم لینے کا آغاز مدعی علیہ سے کیا جائے گا جیسا کہ پیش کردہ حدیث میں ہے۔
ہمارے رجحان کے مطابق پہلے مدعی سے دلیل کا مطالبہ کیا جائے، اگر اس کے پاس دلیل نہ ہو تو انھیں پچاس قسمیں اٹھانے کا کہا جائے۔
اگر وہ قسمیں نہ اٹھائیں تو مدعی علیہ سے قسم لی جائے جیسا کہ ایک روایت میں اس کی وضاحت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم قاتل پر دوگواہ پیش کرو تو اسے تمھارے حوالے کر دیا جائے گا۔
‘‘ انھوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم گواہ کہاں سے لائیں مقتول تو یہودیوں کے دروازے کے پاس برآمد ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’تم پچاس قسمیں اٹھاؤ کہ ہمارے آدمی کو فلاں آدمی نے قتل کیا ہے۔
‘‘ انھوں نے کہا: اللہ کے رسول! جس بات کا ہمیں یقین نہیں ہم اس کے متعلق قسم کیسے اٹھائیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پھر یہودی پچاس قسمیں اٹھا کر اپنے الزام سے بری ہو جائیں گے۔
‘‘ انھوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم یہودیوں سے کیوں قسمیں لیں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑا نمٹانے کے لیے اپنے پاس سے دیت ادا کر دی۔
(سنن النسائي، القسامة، حدیث: 4724)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے گواہوں کا مطالبہ کیا تو انھوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! وہاں تو مسلمان نہیں رہتے جو ہمارے حق میں گواہی دیں، وہاں تو یہودی بستے ہیں جو اس سے بھی بڑے کام پر جرأت کر سکتے ہیں، یعنی جھوٹی قسم اٹھا سکتے ہیں۔
(سنن أبي داود، الدیات، حدیث: 4524)
شاید حضرت امام بخاری ؒ کو اس باب میں کوئی حدیث لکھنی منظور تھی اتفاق نہ ہوا یا اس مضمون کی حدیث ان کو ان کی شرط کے مطابق نہ ملی۔
قاتل پر حق ثابت ہونے سے مقتول کے آدمیوں کو دیت دینی ہوگی۔
وہ قاتل اگر قتل کا اقرار کرلے تو قصاص بھی لیا جاسکتاہے۔
یہ قسامت کی صورت ہے۔
اس میں مدعی سے پچاس قسمیں لی جاتی ہیں کہ میرا گمان فلاں شخص پر ہے کہ اسی نے مارا ہے۔
اس سے آنحضرت ﷺکی صلح جوئی، امن پسند پالیسی، فراخدلی بھی ثابت ہوئی، باوجودیکہ مقتول ایک مسلمان تھا جو یہود کے ماحول میں قتل ہوا، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی اس حرکت کو نظرانداز فرمادیا، تاکہ امن کی فضا قائم رہے۔
اور کوئی طویل فساد نہ کھڑا ہوجائے، آپ نے مسلمان مقتول کے وارثوں کو خود بیت المال سے دیت ادا فرمادی، ایسے واقعات سے ان لوگوں کو سبق لینا چاہئے جو اسلام کو بزور تلوار پھیلانے کا غلط پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔
مذاہب کی دنیا میں صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو بنی نوع انسان کو زیادہ سے زیادہ امن دینے کا حامی ہے۔
1۔
رسول اللہ ﷺنے اپنی طرف سے مقتول کے ورثاء کو خون بہادے کر خیبر کے یہودیوں سے صلح برقرار رکھی۔
اگرمال دے کسی مصلحت کی بنا پر سابقہ صلح کو برقرار رکھا جاسکتا ہے تو بوقت ضرورت مال دے کر کفار سے صلح بھی کی جاسکتی ہے۔
2۔
مشرکین وکفار کو مال دے کر صلح کرنے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ اس صلح میں مسلمانوں کے لیے بہتری ہو۔
اگراس کے برعکس کفار سے مال لے کر صلح کی جائے تووہ مال جزیے کے مصارف میں خرچ کیا جائے۔
امام بخاری ؒ نے اپنی عادت کے مطابق دیگرمقامات پر ذکر کردہ احادیث سے بدعہدی وغیرہ کی سنگینی کو ثابت کیا ہے۔
عنوان سے ان احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے۔
3۔
اس حدیث سے رسول اللہ ﷺکی امن پسندی، فراخدلی اور صلح جوئی ثابت ہوتی ہے، باوجود یہ کہ مقتول ایک مسلمان تھا جویہودیوں کے علاقے میں قتل ہوا مگررسول اللہﷺنے ان کی حرکت کو نظر انداز کردیا تاکہ امن کی فضا قائم رہے اور کوئی فساد نہ کھڑا ہوجائے۔
جب فریقین کی بات فیصلہ کن مراحل میں پہنچتی نظر نہ آئی تو آپ نے مقتول کے مسلمان ورثاء کو خود بیت المال سے دیت ادا کردی۔
واللہ أعلم۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑا ختم کرنے کے لیے اپنی طرف سے مقتول کی دیت ادا کر دی، نیز ان کی تالیف قلب (دل جوئی کرنا)
بھی مقصود تھی ورنہ ان کا حق نہیں بنتا تھا کیونکہ وہ خود قسم اٹھانے پر آمادہ نہ تھے اور نہ یہودیوں کی قسم پر انھیں اعتبار ہی تھا۔
2۔
عنوان کامقصد یہ ہے کہ حاکم وقت اپنے کارندوں کو زکاۃ کی وصولی یا جہاد سے متعلقہ ہدایات لکھ کر بھیج سکتا ہے، لیکن حدیث میں اپنے نائب کو لکھنے کا ذکر نہیں ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فریق مخالف یہودیوں کو لکھا۔
جب انھیں لکھا جا سکتا ہے تو اپنے عملے کو لکھنے میں کیا حرج ہے۔
(فتح الباري: 229/13)
(1)
خیبر ابھی فتح نہیں ہوا تھا، لیکن وہاں کے لوگوں کے ساتھ امن و سلامتی کے ساتھ رہنے کا معاہدہ تھا، کیونکہ بعض روایات میں ہے، آپﷺ نے یہود کو دھمکی دی تھی، ’’اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو۔
‘‘ اگر خیبر فتح ہو چکا تھا، تو اعلان جنگ کی اطلاع کی ضرورت نہ تھی، مسلمان ان کو ویسے ہی خیبر سے نکال سکتے تھے، جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا۔
(2)
دوسرا نظریہ یہ ہے کہ یہ واقعہ فتح خیبر کے بعد پیش آیا (فتح الباری، ج 12، ص 390، مکتبہ دارالسلام)
بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی جس کا نام سہل بن ابی حثمہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ان کو دیت کے دیئے یعنی اس انصاری کی دیت جو خیبر میں قتل کیا گیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1638]
سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کے قبیلہ کے کچھ بڑوں سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما کسی پریشانی کی وجہ سے جس سے وہ دو چار ہوئے خیبر کی طرف نکلے پھر کسی نے آ کر محیصہ کو خبر دی کہ عبداللہ بن سہل مار ڈالے گئے اور انہیں کسی کنویں یا چشمے میں ڈال دیا گیا، وہ (محیصہ) یہود کے پاس آئے اور کہنے لگے: قسم اللہ کی! تم نے ہی انہیں قتل کیا ہے، وہ بولے: اللہ کی قسم ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل تینوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) آئ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4521]
1: قتل یادیگر امور میں تصفیہ کے لئے کفار سے بھی قسمیں لی جائیں۔
اللہ کے نام قسمیں بشرطیکہ فریق ثانی ان کا اعتبار کرے۔
2: حکومت اسلامیہ میں کسی بھی شخص کا خون ضائع نہیں کیا جاسکتا۔
3: اگر مدعاعلیہ متعین نہ ہوسکے اور معاملہ مشتبہ ہو تو بیت المال سے دیت ادا کی جائے گی۔
4: کفار کے ہاں محنت مزدوری اور ملازمت کرنے میں حرج نہیں، بشرطیکہ انسان اپنا دین اسلام محفوظ رکھ سکے۔
5: مجلس میں با ت پیش کرنی ہو تو چھوٹے کو چاہیے کہ بڑے ادب کرتے ہوئے پہلے اسے بات کرنے دے۔
6: قسامت سے قتل کا دعوی ثابت ہوجانے کی صورت میں مدعاعلیہ کو قصاص میں قتل فقہاء کا اختلاف ہے، البتہ دیت لازم ہونے پر اتفاق ہے۔
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری ان سے بیان کیا کہ ان کی قوم کے چند آدمی خیبر گئے، وہاں پہنچ کر وہ جدا ہو گئے، پھر اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو جن کے پاس اسے پایا ان سے ان لوگوں نے کہا: تم لوگوں نے ہی ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، وہ کہنے لگے: ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا پتا ہے چنانچہ ہم لوگ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، تو آپ نے ان سے فرمایا: ” تم اس پر گواہ لے کر آؤ کہ کس نے اسے مارا ہے؟ “ انہوں نے کہا: ہمارے پاس گواہ نہیں ہے، اس پر آپ نے فرمایا: ” پھر وہ یعنی یہود تمہارے لیے قس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4523]
صحیح اور راجح یہ ہے کہ پہلےمدعی لوگوں میں سے بچاس آدمی قسمیں کھا کر اپنا دعوی ثابت کریں گے، تب فریق مخالف سے قسمیں وغیرہ لی جائیں گی۔
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ مقتول پائے گئے، تو ان کے بھائی اور ان کے چچا حویصہ اور محیصہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بات کرنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بڑوں کا لحاظ کرو، بڑوں کا لحاظ کرو “، ان دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے خیبر کے ایک کنویں میں عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا ہے، آپ نے فرمایا: ” تمہارا ش۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4721]
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری شخص نے ان سے بیان کیا کہ ان کے قبیلہ کے کچھ لوگ خیبر کی طرف چلے، پھر وہ الگ الگ ہو گئے، تو انہیں اپنا ایک آدمی مرا ہوا ملا، انہوں نے ان لوگوں سے جن کے پاس مقتول کو پایا، کہا: ہمارے آدمی کو تم نے قتل کیا ہے، انہوں نے کہا: نہ تو ہم نے قتل کیا ہے اور نہ ہمیں قاتل کا پتا ہے، تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم خیبر گئے تھے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4723]
(2) گواہی کا ذکر صرف سعید بن عبید طائی کی روایت میں ہے۔ دیگر رواۃ نے گواہی کا ذکر نہیں کیا۔ تفصیلی روایات، جو کہ بخاری ومسلم کی ہیں، میں یہی ذکر ہے کہ آپ نے پہلے مدعین سے قسمیں اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ ان کے انکار پر مدعی علیہم سے قسموں کا مطالبہ کیا۔ اس لحاظ سے گواہی کا ذکر سعید بن عبید طائی کا شذوذ معلوم ہوتا ہے۔ ممکن ہے [خَالَفَھُمْ سَعِیْدُ بْنُ عُبَیْدِ نِ الطَّائِیُّ] سے امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصد اسی طرف اشارہ کرنا ہو۔
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما (رزق کی) تنگی کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے تو محیصہ کے پاس کسی نے آ کر بتایا کہ عبداللہ بن سہل کا قتل ہو گیا ہے، اور انہیں ایک کنویں میں یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے، یہ سن کر وہ (محیصہ) یہودیوں کے پاس گئے اور کہا: اللہ کی قسم! تم ہی نے انہیں قتل کیا ہے۔ وہ بولے: اللہ کی قسم! انہیں ہم نے قتل نہیں کیا۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4714]
(2) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہم معاملے میں بڑی عمر والے ہی کو مقدم کیا جائے۔ پہلے اسے بات کرنے کا موقع دیا جائے بشرطیکہ اس میں اس کی اہلیت ہو۔ ہاں اگر بڑی عمر والا ایسی صلاحیت سے عاری ہو تو پھر چھوٹے کی بات کا اعتبار ہوگا۔
(3) قسامت میں قتل ثابت کرنے کے لیے بالجزم اور پختہ قسمیں کھانا ضروری ہے، مقتول شخص کو قتل ہوتے دیکھا ہو یا پھر کسی پختہ ذریعے سے قاتل کی اطلاع ملی ہو۔ اس کے علاوہ، محض گمان کی بنیاد پر قتل ثابت نہیں ہوگا۔
(4) عبداللہ بن سہل اور محیصہ آپس میں چچا زاد بھائی تھے۔ خیبر میں ان کی زمین تھی جو خیبر کی غنیمت سے ملی تھی۔
(5) ”حق دار بنتے ہو“ بعض روایات میں پہلے یہودیوں سے قسم لینے کا ذکر ہے کیونکہ وہ مدعی علیہ تھے اور قسم مدعی علیہ کا حق ہے۔ اس حدیث میں مدعیان سے پہلے قسم لینے کا ذکر ہے۔ قسامت میں دوسری صورت کے مطابق ہی عمل ہوگا، اسی قسم کی روایات کو ترجیح حاصل ہے، اگرچہ عام معاملات میں مدعی کے ذمے دلیل اور مدعی علیہ پر قسم ہوتی ہے۔ واللہ أعلم
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف چلے، اس وقت صلح چل رہی تھی، محیصہ اپنے کام کے لیے جدا ہو گئے، پھر وہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو دیکھا کہ ان کا قتل ہو گیا ہے اور وہ مقتول ہو کر اپنے خون میں لوٹ پوٹ رہے تھے، انہیں دفن کیا اور مدینے آئے، عبدالرحمٰن بن سہل اور مسعود کے بیٹے حویصہ اور محیصہ (رضی اللہ عنہم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4719]
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما دونوں محتاجی کی وجہ سے جو ان کو لاحق تھی (روزگار کی تلاش میں) اس یہودی بستی خیبر کی طرف نکلے، محیصہ رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے ہیں، اور انہیں خیبر کے ایک گڑھے یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے، وہ یہودیوں کے پاس گئے، اور کہا: اللہ کی قسم، تم لوگوں نے ہی ان (عبداللہ بن سہل) کو قتل کیا ہے، وہ قسم کھا کر کہنے لگے کہ ہم نے ان کا قتل نہیں کیا ہے، اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس اپنی قوم کے پاس پہنچے، اور ان سے اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2677]
فوائد ومسائل: (1)
جب کوئی شخص قتل ہوجائے اور اس کے قاتلوں کا پتہ نہ چلے تو مدعی قبیلے کے پچاس آدمی مشکوک افراد کے بارے میں قسم کھائیں کہ یہ ہمارے قاتل ہیں۔
اگر وہ قسم کھالیں تو مدعا علیہم سے دیت دلوائی جائے گی۔
اگر یہ لوگ قسم نہ کھائیں تو مدعا علیہم میں سے پچاس آدمی یہ قسم کھائیں گے کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا، نہ ہم قاتل کو جانتے ہیں۔
اگر وہ قسم کھانے سے انکار کریں تو ان پر ضروری ہوگا کہ قاتل کو پیش کریں اور اگر وہ قسم کھا لیں تو وہ بری ہوجائیں گے اور ان سے دیت وصول نہیں کی جائے گی۔
اس صورت میں دیت بیت المال سے ادا کی جائے گی۔
(2)
قسم کھانےوالوں میں کوئی بچہ، عورت، غلام یا مجنون شامل نہیں ہونا چاہیے۔
اگر پچاس افراد کی تعداد مکمل نہ ہوسکے تو جتنے افراد موجود ہیں وہی پچاس قسموں کی تعداد پوری کریں۔ (حاشیة سنن ابن ماجة از محمد فؤاد عبدالباقی)
(3)
اہم معاملات میں بزرگوں کوبات کرنی چاہیے، نیز بزرگوں کو موجودگی میں نوجوانوں کو بات کرنے میں پہل نہیں کرنی چاہیے۔
سیدنا سہل بن ابی حثمہ نے اپنی قوم کے بڑے بزرگوں سے روایت بیان کی ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اپنی تنگ دستی کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے۔ پس محیصہ نے آ کر اطلاع دی کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اور اسے ایک چشمہ میں پھینک دیا گیا ہے۔ محیصہ رضی اللہ عنہ یہود کے پاس آئے اور کہا کہ خدا کی قسم تم لوگوں نے اسے قتل کیا ہے۔ وہ بولے اللہ کی قسم ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ پھر محیصہ اور اس کا بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہم تینوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پہنچے اور محیصہ نے گفتگو کرنی چاہی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ بڑے کو بات کرنے دو بڑے کو “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد تھی جو تم میں عمر میں بڑا ہے (اسے بات کرنی چاہیئے) چنانچہ حویصہ رضی اللہ عنہ نے بیان دیا پھر محیصہ بولا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ وہ لوگ یا تو تمہارے صاحب و ساتھی کی دیت ادا کریں گے یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔ “ پھر اس سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خط تحریر فرمایا جس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ اللہ کی قسم ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل (رضی اللہ عنہم) سے فرمایا ’’ کیا تم لوگ قسم کھا کر اپنے صاحب کے خون کے حقدار بنو گے؟ “ انہوں نے جواب دیا۔ نہیں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ ’’ تم کو یہودی قسم دیں؟ “ انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو مسلمان نہیں ہیں (اس لئے ان کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں) پس پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس (بیت المال) سے دی اور ان کو سو اونٹنیاں بھیج دیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان میں سے ایک سرخ رنگ کی اونٹنی نے مجھے لات ماری۔ (بخاری و مسلم)۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 1020»
«أخرجه البخاري، الأحكام، باب كتاب الحاكم إلي عماله والقاضي إلي أمنائه، حديث:7192، ومسلم، القسامة والمحاربين....، باب القسامة، حديث:1669.»
تشریح: 1. اس حدیث سے قسامت کا ثبوت ملتا ہے۔
2.قسامت یہ ہے کہ قاتل کا کسی طرح پتہ نہ چلنے کی وجہ سے مشتبہ اشخاص سے قسم لی جائے کہ انھوں نے قتل نہیں کیا اور انھیں اس کے قاتل کا علم بھی نہیں۔
3. یہ طریقہ دور جاہلیت میں بھی تھا‘ اسلام نے اسے جائز رکھا۔
4. اس میں پچاس آدمیوں کی قسمیہ شہادت ہوتی ہے کہ ہم نے یا ہمارے قبیلے نے یا ہمارے گاؤں کے لوگوں نے اسے قتل نہیں کیا۔
5. معلوم رہے کہ یہ قسم صرف خون کے مقدمے میں ہوتی ہے‘ باقی حدود کے مقدمات میں ایسی قسمیہ شہادت قبول نہیں ہوتی۔
6. قسامت میں اگر مقتول کے اولیاء و ورثاء ثبوت پیش کردیں یا عدم ثبوت کی صورت میں قسم دے دیں کہ ہمارے مقتول کے قاتل یہی ہیں تو مدعا علیہ پر دیت لازم ہو جاتی ہے۔
اگر مدعی ان دونوں باتوں سے قاصر ہوں اور مدعا علیہ یا مدعا علیہم پچاس قسمیں دے دیں تو وہ بری ہو جاتے ہیں۔
7.قسمیں ان حضرات کی تسلیم ہوں گی جن کو مدعی منتخب کرے۔
8. اس حدیث سے یہ اہم مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ اجتماعی معاملات کی بابت عمررسیدہ کو بات پہلے کرنی چاہیے۔
9. قسامت والے معاملے میں پہلے قسم مقتول کے اولیاء کے ذمے ہوگی‘ اگر وہ گریز اور اعراض کریں تو پھر جن پر دعویٰ دائر کیا گیا ہے وہ قسم کھا لیں گے اور بری ہو جائیں گے اور ان پر کسی قسم کی کوئی چیز عائد نہیں ہوگی اور اگر قسمیں نہیں کھائیں گے تو ان پر دیت لازم ہو گی۔
راویٔ حدیث:
«حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ» عبداللہ بن سہل بن زید بن کعب بن عامر انصاری حارثی۔
خیبر میں قتل کیے گئے اور ایک چشمہ میں پائے گئے کہ ان کی گردن توڑ دی گئی تھی۔
«حضرت مُحَیِّصہ رضی اللہ عنہ» ابوسعید محیصہ بن مسعود بن کعب حارثی انصاری مدنی۔
عبداللہ بن سہل مقتول کے چچا زاد بھائی تھے۔
مشہور و معروف صحابی ہیں۔
ہجرت سے پہلے اسلام قبول کیا۔
احد و خندق کے علاوہ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فدک کی طرف بھیجا تھا تاکہ اہل فدک کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیں۔
«حضرت حُوَیِّصَہ رضی اللہ عنہ» محیصہ کے سگے بڑے بھائی ہیں۔
۳ ہجری میں اسلام قبول کیا۔
اُحد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے۔
«حضرت عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ» یہ عبداللہ بن سہل کے بھائی تھے۔
ان کی والدہ کا نام لیلیٰ بنت نافع بن عامر ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ بدر و احد اور باقی تمام غزوات میں شریک رہے۔
یہ وہ صاحب تھے جنھیں سانپ نے ڈس لیا تھا۔
حضرت عُمارہ بن حزم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق انھیں جھاڑ پھونک کی۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اصابہ میں اس کی بابت تردد کا اظہار کیا ہے اور اسے بعید تصور کیا ہے۔
امام تر مذی یہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔
① ” یہ حدیث حسن صحیح ہے “
(2) قسامہ کے سلسلہ میں بعض اہل علم کا اسی حدیث پرعمل ہے
③ مدینہ کے بعض فقہا ء قسامہ کی بناپر قصاص درست سمجھتے ہیں۔
④ کوفہ کے بعض اہل علم اور کچھ دوسرے لوگ کہتے ہیں: ” قسامہ کی بنا پر قصاص واجب نہیں، صرف دیت واجب ہے۔ “
قسامہ: نامعلوم قتل کی صورت میں مشتبہ افراد یا بستی والوں سے قسم لینے کو قسامہ کہا جا تا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص مقتول پایا جائے اور اس کے قاتل کا علم کسی کو نہ ہو، پھر قاتل کے خلاف کوئی شہادت بھی موجود نہ ہو، تو بعض قرائن کی بنیاد پر مقتول کے اولیاء کسی متعین شخص کے خلاف دعویٰ پیش کریں کہ فلاں نے ہمارے آدمی کوقتل کیا ہے، مثلاً مقتول اور مدعی علیہ کے مابین عداوت پائی جائے، یا مقتول مدعی علیہ کے گھر کے قریب ہو یا مقتول کا سامان کسی انسان کے پاس پایا جائے، یہ سب قرائن ہیں، تو مدعی، مدعی علیہ کے خلاف پچاس قسمیں کھا کر مقتول کے خون کا مستحق ہو جائے گا، یا اگر مدعی قسم کھانے سے گریز کریں تو مدعا علیہ قسم کھا کر خوں بہا سے بری ہو جائے گا، دونوں کے قسم نہ کھانے کی صورت میں خوں بہا بیت المال سے ادا کیا جائے گا۔