حدیث نمبر: 4708
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَعُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوسلمہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر وہ مال جو تقسیم نہ ہوا ہو ، اس میں شفعہ کا حق ہے ۔ لہٰذا جب حد بندی ہو جائے اور راستہ متعین ہو جائے تو اس میں شفعہ کا حق نہیں “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: حق شفعہ کے سلسلہ میں مناسب اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ حق ایسے دو پڑوسیوں کو حاصل ہو گا جن کے مابین پانی، راستہ وغیرہ مشتر کہوں، دوسری صورت میں یہ حق حاصل نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4708
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19583) (صحیح) (یہ حدیث مرسل ہے، اس لیے کہ ابوسلمہ نے یہاں پر واسطہ کا ذکر نہیں کیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الشفعہ (2257) میں ابو سلمہ نے اس حدیث کو جابر (رضی الله عنہ) سے روایت کیا ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´شفعہ اور اس کے احکام کا بیان۔`
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہر وہ مال جو تقسیم نہ ہوا ہو، اس میں شفعہ کا حق ہے۔ لہٰذا جب حد بندی ہو جائے اور راستہ متعین ہو جائے تو اس میں شفعہ کا حق نہیں " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4708]
اردو حاشہ: امام مالک، امام شافعی اور محدثین اسی کے قائل ہیں، البتہ احناف صرف پڑوسی کے لیے بھی شفعہ کے قائل ہیں۔ اس حدیث میں وہ تاویل کرتے ہیں کہ یہاں شفعہ کی شرکت کی نفی ہے نہ کہ شفعہ جوار کی، حالانکہ صراحت کے ساتھ ہر شفعہ کی نفی کی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4708 سے ماخوذ ہے۔