سنن نسائي
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
بَابُ : الشَّرِكَةِ بِغَيْرِ مَالٍ باب: مال لگائے بغیر تجارت میں حصہ دار بننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4701
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ , وَسَعْدٌ , يَوْمَ بَدْرٍ ، فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ , وَلَمْ أَجِئْ أَنَا , وَعَمَّارٌ بِشَيْءٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` عمار ، سعد اور میں نے بدر کے دن حصہ داری کی ، چنانچہ سعد دو قیدی لے کر آئے ، ہم اور عمار کچھ بھی نہیں لائے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´مال لگائے بغیر تجارت میں حصہ دار بننے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمار، سعد اور میں نے بدر کے دن حصہ داری کی، چنانچہ سعد دو قیدی لے کر آئے، ہم اور عمار کچھ بھی نہیں لائے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4701]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمار، سعد اور میں نے بدر کے دن حصہ داری کی، چنانچہ سعد دو قیدی لے کر آئے، ہم اور عمار کچھ بھی نہیں لائے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4701]
اردو حاشہ: ”شریک بنے“ اس شراکت کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں جو کچھ ملے گا، وہ برابر تقسیم کر لیں گے۔ اس شراکت میں کوئی حرج نہیں کہ دو تین آدمی مل کر کام کریں اور پھر حاصل ہونے والی آمدنی میں برابر کے شریک بن جائیں۔ اگرچہ سب لوگ ایک جیسا کام نہیں کرتے مگر شراکت میں مسامحت ہوتی ہے۔ فقہاء کی اصطلاح میں ایسی شراکت کو شرکۃ الابدان کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4701 سے ماخوذ ہے۔