حدیث نمبر: 4700
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا ، وَبَائِعًا وَقَاضِيًا ، وَمُقْتَضِيًا الْجَنَّةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جنت میں داخل کر دیا جو خریدتے ، بیچتے ، ( قرض ) دیتے اور تقاضا کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا تھا “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/التجارات 28 (2202)، (تحفة الأشراف: 9830)، مسند احمد (1/58، 67، 70) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2202

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´قرض وصول کرنے میں اچھے سلوک اور نرمی برتنے کی فضیلت کا بیان۔`
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جنت میں داخل کر دیا جو خریدتے، بیچتے، (قرض) دیتے اور تقاضا کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا تھا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4700]
اردو حاشہ: یہ حدیث مبارکہ بھی بلند اور کریمانہ اخلاق اپنانے اور لین دین میں اختلافات ختم کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ انسانوں کے ساتھ تنگی ترشی والا معاملہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ان کے لیے مصیبت اور عذاب ہی بننا چاہیے بلکہ مہربانی اور درگزر سے کام لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4700 سے ماخوذ ہے۔