سنن نسائي
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
بَابُ : مَطْلِ الْغَنِيِّ باب: قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
حدیث نمبر: 4693
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ وَبْرِ بنِ أَبِي دُلَيْلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرض ادا کرنے میں مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہو جاتی ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی برائی کر سکتا ہے اور حاکم اسے سزا دے سکتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4693
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4694 | سنن ابي داود: 3628 | سنن ابن ماجه: 2427 | بلوغ المرام: 728
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔`
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرض ادا کرنے میں مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہو جاتی ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4693]
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرض ادا کرنے میں مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہو جاتی ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4693]
اردو حاشہ: بے عزتی تو قرض خواہ کرے گا کہ اسے لوگوں کے سامنے ذلیل کرے اور سزا حکومت دے گی کہ اسے قید کر دے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4693 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2427 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قرض کی وجہ سے قید کرنے اور قرض دار کو پکڑے رہنے کا بیان۔`
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو قرض ادا کر سکتا ہو اس کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو حلال کر دیتا ہے، اور اس کو سزا (عقوبت) پہنچانا جائز ہو جاتا ہے۔“ علی طنافسی کہتے ہیں: عزت حلال ہونے کا مطلب ہے کہ قرض خواہ اس کے نادہند ہونے کی شکایت لوگوں سے کر سکتا ہے، اور عقوبت پہنچانے کے معنیٰ اس کو قید میں ڈال دینے کے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2427]
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو قرض ادا کر سکتا ہو اس کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو حلال کر دیتا ہے، اور اس کو سزا (عقوبت) پہنچانا جائز ہو جاتا ہے۔“ علی طنافسی کہتے ہیں: عزت حلال ہونے کا مطلب ہے کہ قرض خواہ اس کے نادہند ہونے کی شکایت لوگوں سے کر سکتا ہے، اور عقوبت پہنچانے کے معنیٰ اس کو قید میں ڈال دینے کے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2427]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قرض بروقت ادا کرنا ضروری ہے۔
(2)
اگر مقروض وقت پر قرض ادا نہ کرے تو اس کے خلاف حکمران یا قاضی سےشکایت کی جا سکتی ہے۔
حاکم اورقاضی کا فرض ہے کہ حق وارکواس کا حق دلوائیں۔
(3)
اگر مقروض واقعی قرض ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے مزید مہلت دی جائے یا قرض معاف کردیا جائے یا بیت المال سےاس کی مدد جائے۔
بیت المال کا نظام موجود نہ ہونے کی صورت میں دوسرے لوگوں کا فرض ہےکہ زکاۃ وصدقات کےذریعے سےاس کی مدد کریں۔
(4)
جن جرائم میں حد نہیں ان میں مجرم کوتعزیر کے طور پرقید کی سزا جا سکتی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
قرض بروقت ادا کرنا ضروری ہے۔
(2)
اگر مقروض وقت پر قرض ادا نہ کرے تو اس کے خلاف حکمران یا قاضی سےشکایت کی جا سکتی ہے۔
حاکم اورقاضی کا فرض ہے کہ حق وارکواس کا حق دلوائیں۔
(3)
اگر مقروض واقعی قرض ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے مزید مہلت دی جائے یا قرض معاف کردیا جائے یا بیت المال سےاس کی مدد جائے۔
بیت المال کا نظام موجود نہ ہونے کی صورت میں دوسرے لوگوں کا فرض ہےکہ زکاۃ وصدقات کےذریعے سےاس کی مدد کریں۔
(4)
جن جرائم میں حد نہیں ان میں مجرم کوتعزیر کے طور پرقید کی سزا جا سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2427 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 728 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´مفلس قرار دینے اور تصرف روکنے کا بیان`
سیدنا عمرو بن شرید رحمہ اللہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مالدار آدمی کا ادائیگی قرض میں ٹال مٹول کرنا، اس کی بے عزتی اور سزا دینے کو حلال کرنا ہے۔ “ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے تعلیق کے طور پر نقل کیا ہے اور ابن حبان نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 728»
سیدنا عمرو بن شرید رحمہ اللہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مالدار آدمی کا ادائیگی قرض میں ٹال مٹول کرنا، اس کی بے عزتی اور سزا دینے کو حلال کرنا ہے۔ “ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے تعلیق کے طور پر نقل کیا ہے اور ابن حبان نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 728»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، القضاء، باب في الدين هل يحبس به، حديث:3628، والنسائي، البيوع، حديث:4693، 4694، والبخاري، الاستقراض، قبل حديث:2401، وابن حبان (الموارد)، حديث:1164.»
تشریح: اس حدیث کی رو سے مال دار اور صاحب ثروت آدمی محض اپنی خساست طبع کی وجہ سے قرض کی ادائیگی میں حیلے بہانے‘ ٹال مٹول اور لیت و لعل کرے جبکہ وہ آسانی سے قرض ادا کرنے کی حالت میں ہو تو ایسے آدمی کو قرض خواہ زبانی کلامی بے عزت بھی کر سکتا ہے اور بذریعۂ عدالت اسے سزا دلوانے کا بھی مجاز ہے۔
جمہور علماء نے تو صرف دس درہم تک کی مالیت یا مقدار کے مساوی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے والے شخص کو فاسق اور مردود الشھادۃ قرار دیا ہے۔
(سبل السلام)
راویٔ حدیث:
«حضرت عمرو» ابوالولید عمرو بن شرید ’’شین‘‘ پر فتحہ اور ’’را‘‘ کے نیچے کسرہ) بن سوید۔
طائف کے قبیلۂثقیف سے تھے‘ اسی لیے ثقفی طائفی کہلائے۔
ثقہ تابعی ہیں اور تیسرے طبقے میں سے ہیں۔
«حضرت شرید رضی اللہ عنہ» شرید بن سوید ثقفی۔
ان کا نام مالک تھا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام شرید رکھا۔
آپ نے ان کا یہ نام اس وجہ سے رکھا کہ یہ اپنی قوم کا ایک فرد قتل کر کے مکہ میں آ گئے تھے اور پھر اسلام قبول کر لیا۔
(تلقیح لابن الجوزي) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق حضر موت سے تھا اور ان کا شمار قبیلۂثقیف میں سے تھا۔
اور ایک قول یہ بھی ہے کہ انھیں اہل طائف میں شمار کیا جاتا تھا۔
«أخرجه أبوداود، القضاء، باب في الدين هل يحبس به، حديث:3628، والنسائي، البيوع، حديث:4693، 4694، والبخاري، الاستقراض، قبل حديث:2401، وابن حبان (الموارد)، حديث:1164.»
تشریح: اس حدیث کی رو سے مال دار اور صاحب ثروت آدمی محض اپنی خساست طبع کی وجہ سے قرض کی ادائیگی میں حیلے بہانے‘ ٹال مٹول اور لیت و لعل کرے جبکہ وہ آسانی سے قرض ادا کرنے کی حالت میں ہو تو ایسے آدمی کو قرض خواہ زبانی کلامی بے عزت بھی کر سکتا ہے اور بذریعۂ عدالت اسے سزا دلوانے کا بھی مجاز ہے۔
جمہور علماء نے تو صرف دس درہم تک کی مالیت یا مقدار کے مساوی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے والے شخص کو فاسق اور مردود الشھادۃ قرار دیا ہے۔
(سبل السلام)
راویٔ حدیث:
«حضرت عمرو» ابوالولید عمرو بن شرید ’’شین‘‘ پر فتحہ اور ’’را‘‘ کے نیچے کسرہ) بن سوید۔
طائف کے قبیلۂثقیف سے تھے‘ اسی لیے ثقفی طائفی کہلائے۔
ثقہ تابعی ہیں اور تیسرے طبقے میں سے ہیں۔
«حضرت شرید رضی اللہ عنہ» شرید بن سوید ثقفی۔
ان کا نام مالک تھا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام شرید رکھا۔
آپ نے ان کا یہ نام اس وجہ سے رکھا کہ یہ اپنی قوم کا ایک فرد قتل کر کے مکہ میں آ گئے تھے اور پھر اسلام قبول کر لیا۔
(تلقیح لابن الجوزي) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق حضر موت سے تھا اور ان کا شمار قبیلۂثقیف میں سے تھا۔
اور ایک قول یہ بھی ہے کہ انھیں اہل طائف میں شمار کیا جاتا تھا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 728 سے ماخوذ ہے۔