سنن نسائي
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي الدَّيْنِ باب: قرض کی شناعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4689
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ سَمْعَانَ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ ، فَقَالَ : " أَهَهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ ؟ " ثَلَاثًا ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَنْ لَا تَكُونَ أَجَبْتَنِي أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلَّا بِخَيْرٍ ، إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَاتَ مَأْسُورًا بِدَيْنِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ ایک جنازے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ نے تین مرتبہ فرمایا : ” کیا فلاں گھرانے کا کوئی شخص یہاں ہے ؟ “ چنانچہ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پہلی دو مرتبہ میں کون سی چیز رکاوٹ تھی کہ تم نے میرا جواب نہ دیا ، سنو ! میں نے تمہیں صرف بھلائی کے لیے پکارا تھا ، فلاں شخص ان میں کا ایک آدمی جو مر گیا تھا - اپنے قرض کی وجہ سے ( جنت میں جانے سے ) رکا ہوا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس لیے اس کے قرض کی ادائیگی کا انتظام کرو یا قرض خواہ کو راضی کر لو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´قرض کی شناعت کا بیان۔`
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک جنازے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے تین مرتبہ فرمایا: " کیا فلاں گھرانے کا کوئی شخص یہاں ہے؟ " چنانچہ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " پہلی دو مرتبہ میں کون سی چیز رکاوٹ تھی کہ تم نے میرا جواب نہ دیا، سنو! میں نے تمہیں صرف بھلائی کے لیے پکارا تھا، فلاں شخص ان میں کا ایک آدمی جو مر گیا تھا - اپنے قرض کی وجہ سے (جنت میں جانے سے) رکا ہوا ہے " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4689]
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک جنازے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے تین مرتبہ فرمایا: " کیا فلاں گھرانے کا کوئی شخص یہاں ہے؟ " چنانچہ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " پہلی دو مرتبہ میں کون سی چیز رکاوٹ تھی کہ تم نے میرا جواب نہ دیا، سنو! میں نے تمہیں صرف بھلائی کے لیے پکارا تھا، فلاں شخص ان میں کا ایک آدمی جو مر گیا تھا - اپنے قرض کی وجہ سے (جنت میں جانے سے) رکا ہوا ہے " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4689]
اردو حاشہ: "گرفتار ہے" یا جنت میں جانے سے رکا ہوا ہے۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ اس کی طرف سے اس کا قرض جلدی ادا کیا جائے تاکہ وہ رہا ہو سکے یا جنت میں داخل ہو سکے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4689 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3341 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قرض کے نہ ادا کرنے پر وارد وعید کا بیان۔`
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبے میں فرمایا: " کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ " تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر پوچھا: " کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ " تو پھر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: " کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ " تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہا: میں ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " پہلے دوبار پوچھنے پر تم کو میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں تو تمہیں بھلائی ہی کی خاطر پکار رہا تھا تمہارا ساتھی اپنے قرض کے سبب قید ہے ۱؎۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3341]
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبے میں فرمایا: " کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ " تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر پوچھا: " کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ " تو پھر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: " کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ " تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہا: میں ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " پہلے دوبار پوچھنے پر تم کو میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں تو تمہیں بھلائی ہی کی خاطر پکار رہا تھا تمہارا ساتھی اپنے قرض کے سبب قید ہے ۱؎۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3341]
فوائد ومسائل:
حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بالخصوص قرضے وغیرہ کی ادایئگی کے بغیر چھٹکا را بہت مشکل ہوگا۔
اوروارثوں پر حق ہے۔
کہ اپنے مرنے والے کا قرضہ ادا کریں۔
آپ ﷺ کی طرف سے مقروض کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کا بھی یہی مقصد تھا۔
کہ میت کا قرض فورا ادا ہوجائے۔
حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بالخصوص قرضے وغیرہ کی ادایئگی کے بغیر چھٹکا را بہت مشکل ہوگا۔
اوروارثوں پر حق ہے۔
کہ اپنے مرنے والے کا قرضہ ادا کریں۔
آپ ﷺ کی طرف سے مقروض کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کا بھی یہی مقصد تھا۔
کہ میت کا قرض فورا ادا ہوجائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3341 سے ماخوذ ہے۔