سنن نسائي
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي الدَّيْنِ باب: قرض کی شناعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ وَضَعَ رَاحَتَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا نُزِّلَ مِنَ التَّشْدِيدِ " , فَسَكَتْنَا وَفَزِعْنَا فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ سَأَلْتُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نُزِّلَ ؟ فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ أُحْيِيَ ، ثُمَّ قُتِلَ ، ثُمَّ أُحْيِيَ ، ثُمَّ قُتِلَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ دَيْنُهُ " .
´محمد بن جحش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا ، پھر ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا ، پھر فرمایا : ” سبحان اللہ ! کتنی سختی نازل ہوئی ہے ؟ “ ہم لوگ خاموش رہے اور ڈر گئے ، جب دوسرا دن ہوا تو میں نے آپ سے پوچھا : اللہ کے رسول ! وہ کیا سختی ہے جو نازل ہوئی ؟ آپ نے فرمایا : ” قسم اس ذات کی ، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ایک شخص اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے پھر زندہ کیا جائے ، پھر قتل کیا جائے پھر زندہ کیا جائے ، پھر قتل کیا جائے اور اس پر قرض ہو تو وہ جنت میں داخل نہ ہو گا جب تک اس کا قرض ادا نہ ہو جائے “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
محمد بن جحش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا، پھر ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا، پھر فرمایا: ” سبحان اللہ! کتنی سختی نازل ہوئی ہے؟ “ ہم لوگ خاموش رہے اور ڈر گئے، جب دوسرا دن ہوا تو میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! وہ کیا سختی ہے جو نازل ہوئی؟ آپ نے فرمایا: ” قسم اس ذات کی، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ایک شخص اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے پھر زندہ کیا جائے، پھر قتل کیا جائے پھر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4688]
(2) شہید فوت ہوتے ہی جنت میں پہنچ جاتا ہے اور جنت میں اڑتا پھرتا ہے، تاہم قرض رکاوٹ بن جاتا ہے حتیٰ کہ قرض ادا کر دیا جائے۔ یا قرض خواہ راضی ہو جائے۔ اپنے آپ راضی ہو جائے یا اللہ تعالیٰ اسے راضی فرما دے۔