سنن نسائي
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
بَابُ : الرَّجُلِ يَبِيعُ السِّلْعَةَ فَيَسْتَحِقُّهَا مُسْتَحِقٌّ باب: ایک شخص سامان بیچے پھر اس کا مالک کوئی اور نکلے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , وَلَقَدْ أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ ، ثُمَّ أَحَدَ بَنِي حَارِثَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ كَانَ عَامِلًا عَلَى الْيَمَامَةِ , وَأَنَّ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَيْهِ , أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَيْهِ : أَنَّ أَيَّمَا رَجُلٍ سُرِقَ مِنْهُ سَرِقَةٌ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا حَيْثُ وَجَدَهَا ، ثُمَّ كَتَبَ بِذَلِكَ مَرْوَانُ إِلَيَّ , فَكَتَبْتُ إِلَى مَرْوَانَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِأَنَّهُ : " إِذَا كَانَ الَّذِي ابْتَاعَهَا مِنَ الَّذِي سَرَقَهَا غَيْرُ مُتَّهَمٍ يُخَيَّرُ سَيِّدُهَا ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الَّذِي سُرِقَ مِنْهُ بِثَمَنِهَا ، وَإِنْ شَاءَ اتَّبَعَ سَارِقَهُ " , ثُمَّ قَضَى بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ ، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِي إِلَى مُعَاوِيَةَ , وَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى مَرْوَانَ إِنَّكَ لَسْتَ أَنْتَ وَلَا أُسَيْدٌ تَقْضِيَانِ عَلَيَّ وَلَكِنِّي أَقْضِي فِيمَا وُلِّيتُ عَلَيْكُمَا ، فَأَنْفِذْ لِمَا أَمَرْتُكَ بِهِ ، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِ مُعَاوِيَةَ ، فَقُلْتُ : لَا أَقْضِي بِهِ مَا وُلِّيتُ بِمَا قَالَ مُعَاوِيَةُ .
´بنی حارثہ کے ایک فرد اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` وہ یمامہ کے گورنر تھے ، مروان نے ان کو لکھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا ہے کہ جس کی کوئی چیز چوری ہو جائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے ، جہاں بھی اسے پائے ، پھر مروان نے یہ بات مجھے لکھی تو میں نے مروان کو لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ چوری کرنے والے سے ایک ایسے شخص نے کوئی چیز خریدی جس پر چوری کا الزام نہ ہو تو اس چیز کے مالک کو اختیار دیا جائے گا چاہے تو وہ اس کی قیمت دے کر اسے لے لے ( جتنی قیمت اس نے چور کو دی ہے ) اور اگر چاہے تو چور کا پیچھا کرے ، یہی فیصلہ ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے کیا ، پھر مروان نے میری یہ تحریر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجی ، معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کو لکھا : تمہیں اور اسید کو حق نہیں کہ تم دونوں مجھ پر حکم چلاؤ بلکہ تمہارا والی اور امیر ہونے کی وجہ سے میں تم کو حکم کروں گا ، لہٰذا جو حکم میں نے تمہیں دیا ہے ، اس پر عمل کرو ، مروان نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی تحریر ( میرے پاس ) بھیجی تو میں نے کہا : جب تک میں حاکم ہوں ان کے حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کروں گا ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بنی حارثہ کے ایک فرد اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ یمامہ کے گورنر تھے، مروان نے ان کو لکھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا ہے کہ جس کی کوئی چیز چوری ہو جائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے، جہاں بھی اسے پائے، پھر مروان نے یہ بات مجھے لکھی تو میں نے مروان کو لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ چوری کرنے والے سے ایک ایسے شخص نے کوئی چیز خریدی جس پر چوری کا الزام نہ ہو تو اس چیز کے مالک کو اختیار دیا جائے گا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4684]
(2) حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اس حدیث سے واقف نہیں تھے جو حضرت اسید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیان فرمائی، اس لیے ان کو یقین نہ آیا، البتہ انھیں تحقیق کرنا چاہیے تھی۔ اسی لیے حضرت اسید رضی اللہ تعالٰی عنہ ان سے ناراض ہوئے اور ان کے قول کے مطابق فیصلہ کرنے سے انکار فرمایا۔ اگرچہ وہ خلیفہ تھے اور حضرت اسید اور حضرت مروان گورنر تھے مگر شریعت کی ہدایات کے ہوتے ہوئے کسی کی ہدایت واجب الاتباع نہیں۔ مومن اسی کردار کا حامل ہوتا ہے۔