سنن نسائي
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
بَابُ : مُبَايَعَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ باب: اہل کتاب(یہود و نصاریٰ) سے خرید و فروخت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4655
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ هِشَامٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ لِأَهْلِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس گھر والوں کی خاطر تیس صاع جَو کے بدلے رہن ( گروی ) رکھی ہوئی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´اہل کتاب(یہود و نصاریٰ) سے خرید و فروخت کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس گھر والوں کی خاطر تیس صاع جَو کے بدلے رہن (گروی) رکھی ہوئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4655]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس گھر والوں کی خاطر تیس صاع جَو کے بدلے رہن (گروی) رکھی ہوئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4655]
اردو حاشہ: اس حدیث کی تفصیلی بحث پیچھے گزر چکی ہے۔ دیکھیے: (حدیث: 4614) امام صاحب کا مقصود یہ ہے کہ غیر مسلم لوگوں سے تجارتی روابط رکھے جا سکتے ہیں۔ ان سے لین دین اور سودے کیے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ باب میں صرف اہل کتاب کا ذکر ہے مگر مراد سب مسلم وغیر مسلم ہیں۔ اہل کتاب، یہودیوں اور عیسائیوں کو کہا جاتا ہے کیونکہ ان پر آسمانی کتابیں تورات اور انجیل اتاری گئی تھیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4655 سے ماخوذ ہے۔