سنن نسائي
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
بَابُ : بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ باب: حمل والے جانور کا حمل بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4626
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " السَّلَفُ فِي حَبَلِ الْحَبَلَةِ رِبًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حمل والے جانور کے حمل کی بیع سلم کرنا سود ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´حمل والے جانور کا حمل بیچنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " حمل والے جانور کے حمل کی بیع سلم کرنا سود ہے۔" [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4626]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " حمل والے جانور کے حمل کی بیع سلم کرنا سود ہے۔" [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4626]
اردو حاشہ: اس قسم کی بیوع جاہلیت میں عام تھیں۔ ایک آدمی کے پاس حاملہ اونٹنی ہوتی۔ کوئی اس سے سودا کرتا کہ اس اونٹنی کے پیٹ میں جو حمل ہے، وہ پیدا ہونے کے بعد، پھر جوان ہونے کے بعد وہ حاملہ ہو کر بچہ جنے گی، اس بچے کی اتنی قیمت میں تجھے ابھی دیتا ہوں۔ وہ بچہ میرا ہو گا۔ یہ ہے "حمل کے حمل کی بیع سلف" یہ نا جائز ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں موجودہ حمل مؤنث ہی ہے؟ وہ صحیح پیدا ہو گا یا عیب دار؟ وہ اپنے حمل تک زندہ رہے گی؟ پھر حاملہ ہو گی؟ اور پھر بچہ جن سکے گی؟ جب ان میں سے کوئی بات بھی معلوم نہیں تو سودا کس چیز کا؟ اسے دھوکے اور غرر کی بیع بھی کہتے ہیں، نیز وہ بیچنے والے کے پاس موجود بھی نہیں۔ گویا یہ کئی لحاظ سے منع ہے۔ اس بیع کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی چیز فروخت کی جائے اور قیمت کی ادائیگی کے لیے حمل کے حمل کی پیدائش کو وقت مقرر کر لیا جائے یا رقم پہلے دے دی جائے اور چیز فروخت کی جائے قیمت حمل کے حمل کی پیدائش کو قرار دیا جائے۔ یہ سب صورتیں منع ہیں کیونکہ یہ مجہول مدت ہے۔ پتا نہیں آئے گی بھی یا نہیں؟ اور آئے گی تو کب؟ ادائیگی کی مدت واضح اور معلوم ہونی چاہیے، مثلاََ: تاریخ، مہینہ یا سال گندم کٹائی یا سردیوں کا آغاز وغیرہ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4626 سے ماخوذ ہے۔